فاٹا کا صرف ایک باب مکمل ہواہے ، رخنہ ڈالنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں،اسفندیار ولی خان

ابھی بہت کام باقی ہے ، تمام معاملات حل ہونے تک اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے، پختونوں کے درمیان تقسیم کی ایک لکیر باقی ہے جسے مٹاکرپختونوں کی ایک وحدت قائم کریں گے،سربراہ اے این پی

پیر جون 20:50

فاٹا کا صرف ایک باب مکمل ہواہے ، رخنہ ڈالنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں،اسفندیار ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ فاٹا انضمام کا صرف ایک باب مکمل ہوا ہے ابھی بہت کام باقی ہے جس میں رخنہ ڈالنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں تاہم سب کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنا ہو نگی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ولی باغ میں 25مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے ارکان پر مشتمل فاٹا یوتھ جرگہ سے بات چیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، ملک کے ممتاز صحافی سلیم صافی، پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک سمیت دیگر قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے ، اسفندیار ولی خان نے فاٹا انضمام کے حوالے سے نوجوانوں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور انہیں عظیم کامیابی پر مبارکباد پیش کی ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ در حقیقت میڈیا میں نمایاں کرنے میں نوجوانوں کا بڑا کردار ہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا صوبے میں ضم ہو گیا لیکن ابھی پختونوں کے درمیان تقسیم کی ایک لکیر باقی ہے جسے مٹانے کیلئے جدوجہد کا آغاز کریں گے اور پختونوں کی ایک وحدت قائم کریں گے، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں فاٹا کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے کیلئے جلد کام مکمل کیا جائے اور ایک آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کو صوبائی کابینہ میں بھی حصہ ملنا چاہئے تاکہ سالہا سال سے غلامی کی زنجیر میں جکڑے قبائلی عوام کے بنیادی مسائل حل ہو سکیں ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ معاملات تاحال الجھے ہوئے ہیں صورتحال واضح نہیں ہو رہی ، اور ہماری جدوجہد اس وققت تک جاری رہے گی جب تک تمام کام مکمل نہیں ہو جاتے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے سب سے پہلے فاٹا کے مسئلے پر اے پی سی بلائی جس کے نتیجے میں ہم اس معاملے کو مین سٹریم کی بجائے انضمام کی جانب لے جانے میں کامیاب ہوئے ، انہوں نے کہا کہ صرف دو افراد نے فاٹا انضمام کو انا کا مسئلہ بنائے رکھا ان میں سے ایک کا تو پتہ نہیں لیکن قوم پرست پختون رہنما کی طرف سے مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے ، انہوں نے کہا کہ دیر ، چترال اور دیگر کئی علاقے اگر ڈیورنڈ پر واقع ہیں اور وہاں کوئی مسئلہ درپیش نہیں تو فاٹا کی حیثیت پر یہ اعتراض کوئی معنی نہیں رکھتا، انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ جو پختونوں کی تقسیم پر خوش ہو وہ قوم پرست کیسے ہو سکتا ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دو بنیادی مسئلے پختونوں کے حقوق کے حوالے سے تھے جو ہم نے بھرپور کاوشوں سے حل کرائے ، اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری اور صوبے کی شناخت کا مسئلہ حل ہوا اور اب فاٹا کے معاملے پر بھی کامیابی حاصل ہوئی انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمد ہو تو وفاق مزید مضبوط ہو گا لیکن بد قسمتی سے چند لوگ اسے چھیڑنے کے درپے ہیں اور اس ترمیم کو واپس لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں انہوں نے واضح کیا کہ اے این پی ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔