سپریم کورٹ نے کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام بارے جواب طلب کر لیا

پیر جون 21:16

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) سپریم کورٹ نے کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں وفاقی حکومت سے گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کے بارے میں جواب طلب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بچوں کے حقوق کا ہرسطح پر تحفظ ہونا چاہیے اور گھریلو ملازمین پرتشدد کے واقعات کی روک تھام کیلئے قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ پیرکوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے طیبہ تشدد کیس کی سماعت کی۔

ا س موقع پرایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے پیش ہوکرعدالت کوبتایا کہ کمسن گھریلو ملازمہ پر تشد د کے ذمہ داروں کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں، تاہم ملزمان کی جانب سے عدالتی فیصلے کیخلاف اپیلیں زیر التواء ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جولوگ قانون شکنی کرتے ہیں ان کے حوالے سے قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، جبکہ کم سن گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کیلئے پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی ہے، ہرسطح پر بچوںکے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔

(جاری ہے)

بعدازاں عدالت نے بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق وفاقی حکومت سے جواب طلب کر تے ہوئے ہدایت کی کہ ہائیکورٹ ایک ہفتے میں طیبہ تشد د کیس کے ملزمان کی طرف سے دائر اپیلوں پر فیصلہ کرے اور بچوں کے تحفظ سے متعلق پہلے سے موجود قانون کا نوٹیفکیشن دوبارہ جاری کیا جائے۔