عام انتخابات وقت پر ہونگے، دو یا تین ماہ کیلئے انتخابات ملتوی کرنے والی بات ذہنوں سے نکال دی جائے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

پیر جون 21:16

عام انتخابات وقت پر ہونگے، دو یا تین ماہ کیلئے انتخابات ملتوی کرنے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عام انتخابات وقت پر ہونگے، جس میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوگی ،دو یا تین ماہ کیلئے انتخابات ملتوی کرنے والی بات ذہنوں سے نکال دی جائے۔ چیف جسٹس نے یہ بات انتخابی اصلاحات کیس کی سماعت کے دوران کہی۔ پیرکو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر الیکشن کمیشن کے حکام نے پیش ہوکر عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں انتخابات کا ضابطہ اخلاق تیار کر لیا گیا ہے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا، اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اتفاق رائے سے ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن کے حکام نے مزید کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 ء کی منظوری کے بعد ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کی گئی اور الیکشن 2018 کے لئے نیا ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے پیش ہوکر بتایا کہ یہ کہنا درست نہیں کیونکہ ضابطہ اخلاق 2017ء میں ہی جاری ہوا تھا ،کاغذات نامزدگی کا معاملہ بدستور عدالت کے سامنے ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات 2 یا 3 ماہ کیلئے ملتوی کرنے والی بات ذہن سے نکال دی جائے ،یہ بات بالکل واضح ہے کہ انتخابات وقت پر ہونگے جس میں ایک دن کی بھی تاخیرنہیں ہوگی۔

الیکشن کمیشن کی طر ف سے عدالت کو بتایا گیا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ملکر ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جو ضابطہ اخلاق تیا رکرلیا گیا ہے اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا،،سپریم کورٹ انتخابی اصلاحات پر 2012 ء میں فیصلہ دے چکی ہے،جس میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کا بھی تعین کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نئے کاغزات نامزدگی کی وجہ سے بہت سے امیدوار معلومات اکٹھی ہی نہیں کر سکے، اب اگر پرانے کاغذات نامزدگی بحال کیے جاتے ہیں تو امیدواروں کو بہانہ مل جائے گا کہ ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں ، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات تاخیر کا شکار نہ ہو۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر زبیر نے بطور ووٹر پیش ہوکر کہا کہ ووٹرز کا یہ حق ہے کہ ان کے منتخب نمائندے اثاثوں سمیت تمام چیزیں ظاہر کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم کاغذات نامزدگی کی پچھلی شقیں بحال کر دیں،ہم نے پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے کیونکہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ ہے۔ چیف جسٹس کے استفسارپر ڈاکٹر زبیرنے کہاکہ میں عدالت میں بطور ووٹر آیا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب پارلیمنٹ قانون بنانے کا حق رکھتی ہے، توووٹر کا حق کیسے متاثر ہوتا ہے یہ قانون سے ثابت کرنا ہوگا۔ بعدازاں عدالت نے کاغذات نامزدگی کی پرانی شقیں بحال کرنے سے متعلق کیس (کل) بدھ کو سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ اس کیس کو سننے کیلئے لارجر بنچ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ بعدازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔