کراچی شہر اور آخری سرے تک پانی پہنچانے کے لیے پانی کی صحیح تقسیم کو یقینی بنانا چاہیے،نگران وزیراعلیٰ سندھ

کینجھر جھیل میں پانی کی سطح معیاری لیول پر بحال رکھی جائے تاکہ کراچی کو روانی کے ساتھ پانی فراہم کیا جاسکے،فضل الرحمن کی سیکرٹری آبپاشی کو ہدایت

پیر جون 21:19

کراچی شہر اور آخری سرے تک پانی پہنچانے کے لیے پانی کی صحیح تقسیم کو ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) نگران وزیراعلی سندھ فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جیسا کہ ملک میں پانی کی قلت ہے لہذا کراچی شہر اور آخری سرے تک پانی پہنچانے کے لیے پانی کی صحیح تقسیم کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات وزیر اعلی ہائوس میں محکمہ آبپاشی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری رضوان میمن، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری اعجاز خان، سیکریٹری آبپاشی جمال شاہ اور اسپیشل سیکریٹری (ٹیکنیکل) آبپاشی اسلم ساریونے شرکت کی۔

سیکریٹری آبپاشی جمال شاہ نے نگراں وزیراعلی سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت ظاہر کی گئی پانی کی قلت مجموعی طورپر 42 فیصد ہے۔ جمال شاہ نے پانی کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خریف کے موسم کے دوران سندھ کا پانی کا حصہ 106300کیوسک بنتا ہیجبکہ سندھ کو صرف 36450 کیوسک پانی مل رہاہے جو کہ بمشکل 34 فیصد بنتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گڈو بیراج کے کینالز پر پانی کا اخراج 7600 کیوسک ریکارڈ کیاگیا ہے۔

ڈیزرٹ پٹ فیڈر میں 3555 کیوسک اور گھوٹکی فیڈر میں 4045 کیوسک ہے۔سکھر بیراج کے کینالز میں پانی کا اخراج 22715 کیوسک ہے، ان کی تفصیلات اس طرح ہی؛ نارتھ ویسٹرن کینال میں اخراج 1800کیوسک، رائس کینال 1000، دادو کینال 1675، نارا کینال 8100، خیرپورفیڈر ایسٹ 1140،روہڑی کینال 8100 اور خیر فیڈر ویسٹ میں پانی کا اخراج 900 کیوسک ہے ۔ کوٹری بیراج میں پانی کا اخراج 6135 کیوسک ریکارڈ کیاگیا ہے جس میں کلری بیگار 2240 کیوسک، اکرم واہ 640 کیوسک، پیناری 1370 کیوسک، نیو پھیلیلی 1885 کیوسک شامل ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ بدین اور دیگر آخری سرے کے علاقوں میں پانی کی شدید قلت کی شکایات ہیں۔انہوں نے سیکریٹری آبپاشی کو ہدایت کی کہ آخری سرے کے آباد گاروں تک پانی کی دستیابی کویقینی بناتے ہوئے تمام شکایات کا ازالہ کیاجائے۔۔کراچی سے متعلق بات کرتے ہوئے نگراں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کینجھر میں پانی کی سطح معیاری لیول پر بحال رکھی جائے تاکہ کراچی کو روانی کے ساتھ پانی فراہم کیا جاسکے ۔

اس پر چیف سیکریٹری رضوان میمن نے کہا کہ وہ کراچی شہر کو پانی کی فراہمی کی ذاتی طور مانیٹرنگ کررہے ہیں جو کہ اس وقت نارمل اور مناسب طریقے سے ہورہی ہے۔اسپیشل سیکریٹری اسلم انصاری نے کہا کینجھر جھیل کی سطح 46.30 آر ایل کی سطح پر برقرار رکھی جارہی ہے تاکہ 1200 کیوسک پانی کراچی شہر کو بغیر کسی مسئلے کے فراہم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں جب پانی کی صورتحال بہتر ہوجائے گی تو کینجھر جھیل کی سطح کو بھی 53.2آر ایل پر لایا جائے گا جوکہ کراچی کے لیے 2 ماہ کے پانی کے ذخیرے کے برابر ہوگا۔

سیکریٹری آبپاشی جمال شاہ نے کہا کہ اسکردو میں درجہ حرارت(آج 4 جون)32.2ڈگری تک اضافہ ہوا ہے، لہذا گلیشئر پگھلنا شروع ہوجائیں گے اور پانی کی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی صورتحال 7 جون سے بہتر ہونا شروع ہوگی اور 15 جون تک تقریبا 70 فیصد پانی کی ضروریات کو حاصل کرلیاجائے گا۔ وزیراعلی سندھ نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ وہ پانی کی مناسب تقسیم کو یقینی بنائے جائے تاکہ آخری سرے تک ہر ایک کو اس کے کچھ حصے کا پانی فراہم ہوسکے۔