خیبرپختونخوابھرکے فنکاروں نے محکمہ ثقافت کی جانب سے اعزازیہ کی تقسیم پر شدیدتحفظات کا اظہار، حکام سے نوٹس لینے کامطالبہ

پیر جون 22:03

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) پشاورسمیت صوبے بھرکے مختلف علاقوں کے فنکاروں نے محکمہ ثقافت کی جانب سے اعزازیہ کی تقسیم پر شدیدتحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ اعزازیہ من پسند فنکاروں میں تقسیم کرنے پر چیف چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور پشاور وہائیکورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلے میں پشاور پر یس کلب میںپر یس کا نفرنس کرتے ہو ئے فنکاروں ، ہدایتکاروں اوراس شعبے سے وابستہ افراد اشفاق طورو،ہارون رشید ،اعجاز میر،حسن علی شاہ،گوہر جان،جمشید علی خان،لائق زادہ لائق،رشید ناز اور دیگر نے کہا کہ محکمہ ثقافت خیبر پختونخوا نے مذکورہ شعبے کے افراد میں زندہ امین منصوبے کے تحت 60 فیصد من پسند فنکاروں میں اعزازیہ تقسیم کیا ، ہم نے محکمے کے اس اقدام کوپشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے جبکہ نیب میں بھی درخواستیں دے چکے ہیں ، ہم ان کیخلاف نہیں جن کو اعزازیہ دیا گیا ہے لیکن اس میں سینئرفنکاروں اورہدایتکاروں کی بجائے میرٹ کے برعکس فحاش اور بیہودہ سی ڈی ڈراموں کے غیر مستحق افراد کو شامل کیا گیا،صو بے کے بڑے بڑے آرٹسٹ جو کافی عرصہ سے ادارکاری کے میدان میں عملی کام کیا ہے انکی حق تلفی کرناناقابل برداشت ہیں، اس سلسلے میں تشکیل کردہ کمیٹی نے ایک ہی گھرانے سے تعلق رکھنے والے چھ چھ اافراد کو اعزازیہ دیا اور افغانی شہریت رکھنے والو ں کو بھی نوازا ۔

(جاری ہے)

انہو ں نے کہا کہ کمیٹی سنیارٹی کی بنیاد پر اعزازیہ تقسیم کریں محکمہ ثقافت میں کلاس فور سے لیکر سیکرٹری تک سب کرپشن میں ملوث ہیں ۔انہو ں نے چیف جسٹس آف پاکستان،،چیف آف آرمی سٹاف،،چیئرمین نیب اور دیگر اعلیٰ حکام سے اس سلسلے میں انکوائری اور نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔