پی پی کے جانے پر ہم یوم نجات منانا چاہتے تھے کیونکہ ملکی تاریخ کی سب سے بدعنوان حکومت چلی گئی ، پاکستان تحریک انصاف

اگلے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف پورے سندھ سے ہر جگہ امیدوار کھڑے کرے گی، علی زیدی اور حلیم عادل شیخ کی انصاف ہائوس میں پریس کانفرنس

پیر جون 22:39

پی پی کے جانے پر ہم یوم نجات منانا چاہتے تھے کیونکہ ملکی تاریخ کی سب ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سینئر نائب صدر علی زیدی اور سندھ کے سینئر ایگزیکٹو نائب صدر حلیم عادل شیخ نے پیرکو پارٹی سیکرٹریٹ ’’انصاف ہائوس‘‘ کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقعے پر پی ٹی آئی کراچی و سندھ کے عہدیداران و کارکنان بھی موجود تھے۔ سینئر رہنما علی زیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی پی کے جانے پر ہم یوم نجات منانا چاہتے تھے کیونکہ ملکی تاریخ کی سب سے بدعنوان حکومت چلی گئی ۔

اگلے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف پورے سندھ سے ہر جگہ امیدوار کھڑے کرے گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ اب اس صوبے میں پی پی حکومت بنانے کے قابل ہے۔ بلاول ہاؤس کے آگے لائن لگانے والے بہت سے لوگ میرے دوست ہیں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں، آپ میں سے کوئی وڈیرہ ہے کوئی نواب ہے۔

(جاری ہے)

آپ دو دو تین تین نسلوں سے منتخب ہوتے آئے ہیں۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اپنی محنت سے کیا لیا ہے۔

آپ کیونکہ ایسے گھر میں پیدا ہوئے، اس لیے آپ کو یہ سرداری مل گئی۔ اگر خدا نے آپ کو ایسی جگہ پیدا کیا اور بٹھایا تو اس میں آپ کی ذمہ داری بھی ہے۔ آپ اپنے حلقے کے لوگوں کے لیے کام کریں۔ آپ حکومت میں آئیں گے۔ آپ ایسا کوئی کام کریں کہ ان لوگوں کے کام آئے۔ آپ ایسا کام کریں کہ پارٹی خود آپ کو ٹکٹ دے۔ آپ کو پتہ ہے کہ عزیر بلوچ نے کیا کیا تھا اور کس کے بل بوتے پر کیا تھا۔

آپ کہتے تھے کہ ہم ڈرتے ہیں الطاف حسین سے۔ آپ آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ جس دن عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی آئے گی، آپ اپنے ضمیر کو کیا جواب دو گے۔ آپ اس گھر سے ٹکٹ لینے کے لیے آئے تھے، جہاں سے بھتہ، غنڈہ گردی ہوتی تھی۔ آپ کو سب پتہ تھا، آپ پھر بھی وہاں سے ٹکٹ لینے گئے۔ کوئی باہر سے آتا ہے تو کراچی دیکھ کر کہتا ہے یہ کیا کچرا پڑا ہے۔

دس سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، انہوں نے کراچی کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا۔ آپ پھر ان کے پاس ٹکٹ لینے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں آپ کے ضمیر پر ایک سوال چھوڑ رہا ہوں۔ جس حلقے سے آپ نے الیکشن لڑنا ہے، وہاں بچے پیاس سے مریں اور ہسپتال نہ ہوں تو آپ کو شرم آنی چاہئے۔ سندھ میں بھی پی ٹی آئی کی عوام کی حکومت ہوگی۔ جتنے مسائل آپ نے پیدا کیے ہیں، ہمیں معلوم ہے۔

میں یہاں دہرانا نہیں چاہتا، کس نے کیا کیا۔ سندھ میں اجرک اور ٹوپی بھی لال ہے اور انقلاب بھی لال رنگ کا ہے۔ اس کیس میں تین بار بنچ بن چکا ہے۔ آج ایڈووکیٹ جنرل پیش ہوئے، اب ان پر حکومت کا پریشر بھی نہیں ہے۔ اگلی سماعت پچیس جون کو ہے۔ امید ہے آپ کو پتہ چلے گا بلاول ہاؤس اور لاڑکانہ کے محلوں میں کون کون ملوث تھا۔ بہت لوگ کہہ رہے ہیں بلدیہ فیکٹری ایکسیڈنٹ تھا۔

اگر ایسا ہے تو رئیس مما کو کیوں پکڑا گیا۔ کوئی مہاجروں کے ٹھیکیداروں سے پوچھے تم میرے ساتھ اس جے آئی ٹی میں کیوں نہیں آتے۔ پریس کانفرنس سے سندھ کے سینئر رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی سندھ کے بچے بھوکے مر رہے ہیں۔ روڈز کھدی ہیں اورکچرا بکھرا ہوا ہے۔ اب یہ لوگ اپنے اپنے حلقوں میں یتیم اور معصوم صورتیں بنا کر جا رہے ہیں۔

ہمارا جن سے مقابلہ ہونے جا رہا ہے، اندرون سندھ میں ان کے ناظم اور چیئرمین بیٹھے ہیں۔ اب یہ روڈ اور پانی کی لائنیں ڈال رہے ہیں، لیکن عوام کو سوچنا پڑے گا۔ اب سندھ میں پیپلز پارٹی کا ٹھیک طریقے سے مقابلہ کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی اپنے امیدوار اتارے گی۔ ہم سندھ میں سڑکیں بنائیں گے اور سسٹم بہتر کریں گے۔ بڑا چھوٹ جاتا ہے، چھوٹا جیل میں ہوتا ہے، یہ نہیں ہونے دیں گے۔

کراچی سے سکھر اور حیدر آباد سے اوباڑو تک ہمارے امیدوار ہوں گے۔ ان سے کام کروائیں۔ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے گزشتہ دس سالوں میں کیا کیا۔ سینئر رہنما علی زیدی کا کہنا تھا کہ ووٹ تو بلے کو ہی ملے گا۔ حبیب جان بلوچ پر بڑے سنگین الزامات ہیں۔ وہ عزیر بلوچ کے رائٹ ہینڈ سمجھے جاتے ہیں۔ جو جے آئی ٹی میں لکھا ہے، وہ پبلک کیا جائے۔

خوشخبری یہ ہے کہ اگلا وزیر اعطم کراچی سے ہوگا۔ ہم نے دو تین حلقے عمران خان کے لیے رکھے ہیں۔ ہم ساری چیزیں خان صاحب کے سامنے رکھیں گے اور فیصلہ کروائیں گے۔ کسی کو ٹکٹ ملنا ہے کسی کو نہیں ملنا۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے ٹکٹ ملے نہ ملے۔ میں پارٹی کے لیے کام کروں گا۔ کچھ باتیں خدا کے بھروسے بھی چھوڑنا پڑتی ہیں۔ ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ اپنا لیول ایسا کرلیں کہ ٹکٹ آپ کو ہی ملے۔