بھارت،2013 فسادات، بے گھر 3ہزار خاندان ابھی تک خیمہ بستیوں میں زندگی گذارنے پر مجبور

لوگ آتے، تصویریں کھنچواتے اور چلے جاتے ہیں،بیت المال کے تعمیر کردہ مکانات خیموں سے بد تر ہیں، پناہ گزین

پیر جون 22:51

کیرانہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) بھارتی ریاست یو پی میں 2013کے فسادات میں بے گھر ہونے والے 3ہزار خاندان ابھی تک خیمہ بستیوں میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں،لوگ آتے ہیں تصویریں کھنچواتے اور چلے جاتے ہیں،بیت المال کی جانب سے تعمیر کردہ مکانات خیموں سے بد تر ہیں۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست یوپی کے اضلاع شاملی و مظفر نگر میں 2013ء میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

اس دوران تقریباً 50ہزار افراد گائوں چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے اور بعض نے نقل مکانی کرکے کیرانہ ، کاندھلہ، بڑھانہ اور شاہ پور جیسے محفوظ علاقوں میں پناہ لی۔ ان میں سے بیشتر لوگوں کو چھت میسر ہوگئی تاہم اب بھی تقریباً3ہزار افراد جھونپڑیوں اور عارضی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

(جاری ہے)

خیمہ بستی میں رہنے والے عبداللہ نے بتایا کہ پہلے یہاں ملّی جماعتوں کے نمائندے کچھ مدد کرتے ، افطار اور عیدکیلئے پیسے دیدیتے تھے مگر رمضان کا دوسرا عشرہ ختم ہونے والا ہے ، کہیں سے کوئی امداد نہیں ملی۔

وکیلانامی خاتون نے کہا کہ روزہ کے افطار اور عید کی خوشیاں اب ہمیں کہاں۔ہم جس حال میں ہیں ٹھیک ہیں۔ لوگ آتے ہیں تصویریں کھنچواتے اور چلے جاتے ہیں۔واضح ہو کہ 9دیہات ایسے ہیں جہاں سے لوگ نقل مکانی کرکے ان خیمہ بستیوں میں زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔ وہ اپنے گائوں واپس جانے کیلئے تیار نہیں۔۔جمعیت علمائے ہند نے ناہید کالونی میں 100سے زائد اورصفا بیت المال نے 80، سنیہتی میں طیب ٹرسٹ نے 300چھوٹے مکانات تعمیر کرائے تھے۔

یہ مکانات ایسے ہیں جہاں رات گزارنا عام آدمی کیلئے مشکل ہے۔ ان میں سے کسی ایک کالونی میں پختہ راستہ نہیں ، نکاسی آب کا کوئی بندوبست نہیں، جگہ جگہ گندگی اور کوڑوں کا ڈھیرہے۔صحت ، تعلیم اور روزگار کی سہولتیں ناپید ہیں۔ یہاں رہنے والے مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔