پاکستان تحریک انصاف نے حامد خان کو پارلیمانی سیاست سے آوٹ کر دیا

عمران خان کی جانب سے حامد خان کو انتخابات 2018 میں ٹکٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر جون 20:29

پاکستان تحریک انصاف نے حامد خان کو پارلیمانی سیاست سے آوٹ کر دیا
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-04 جون 2018ء ) ::پاکستان تحریک انصاف نے حامد خان کو پارلیمانی سیاست سے آوٹ کر دیا۔ عمران خان کی جانب سے حامد خان کو انتخابات 2018 میں ٹکٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور سے تحریک انصاف کے امیدواروں کا اعلان کر دیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے تخت لاہور کو زیر کرنے کے لیے اپنے تگڑے ناموں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا۔

ڈاکٹریاسمین راشداین اے125سےمیدان میں اتریں گی۔این اے126سےحماداظہرامیدوارہوئے تومہرواجدکواین اے123سےٹکٹ ملنےکاامکان ہے۔:این اے127سےجمشید اقبال،این اے128سےاعجازڈیال کومیدان میں اتارنےکافیصلہ کیا گیا ہے۔این اے129سےعلیم خان،130سےشفقت محمودکوٹکٹ جاری کرنےکافیصلہ کر لیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

:این اے132سےمنشاسندھو،133سےاعجازچوہدری الیکشن لڑیں گے۔

:این اے 134سےظہیرعباس کھوکھر،135سےکرامت کھوکھرپی ٹی آئی کےامیدوارہوں گے۔این اے136سےخالدگجر،این اے124سےولید اقبال کو ٹکٹ ملے گا۔۔شاہ محمود قریشی پنجاب کی صوبائی نشست کےلیےلاہورسےبھی الیکشن لڑیں گے۔ذرائع کے مطابق :شاہ محمودقریشی پی پی 158یا162سےالیکشن لڑیں گے۔اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان تحریک انصاف نے حامد خان کو پارلیمانی سیاست سے آوٹ کر دیا۔

عمران خان کی جانب سے حامد خان کو انتخابات 2018 میں ٹکٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ حامد خان پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما ہیں اور گزشتہ انتخابات میں خواجہ سعد رفیق سے انتخابات میں آمنا سامنا بھی کر چکے ہیں انکا حلقہ بھی ان حلقوں میں شامل تھا جن پر تحریک انصاف نے دھاندلی کا شور مچیا تھا۔حامد خان کے اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف سے تعلقات اتار چڑھاو کا شکار رہے۔

پہلے انہوں نے خود کو پاناما کیس سے الگ کرلیا تھا جبکہ وہ اس کیس میں تحریک انصاف کے وکیل تھے ۔کچھ روز پہلے بھی پارٹی سے انکے اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔پی ٹی آئی رہنما حامد خان ایڈوکیٹ نے بھی سپریم کورٹ سے نااہل کسی بھی شخص کو پارٹی سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ سے نااہل کسی بھی شخص کو پارٹی معاملات نہیں چلانا چاہیں۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ ایسا شخص ٹکٹوں کے معاملات میں شرکت کر سکتا ہے نہ ہی پارٹی کی سیاسی طاقت استعمال کر سکتا ہے۔ نااہل شخص کی مداخلت رہی تو ہمیں عدالتوں میں مختلف مقدما ت کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔