نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت یوم علیؑ کے موقع پر سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے اجلاس

پیر جون 23:20

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) نگراں وزیراعلی سندھ فضل الرحمان نے 21 رمضان المبارک کو یوم علیؑ کے موقع پر سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس کی صدارت کی۔ پیر کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن ، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، نگراں وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری اعجاز علی خان، سیکریٹری داخلہ قاضی شاہد پرویز ، ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر اور ڈی آئی جی سائوتھ آزاد خان نے شرکت کی۔

نگراں وزیر اعلی سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا کہ یومِ شہادت ِ حضرت علیؑ کے جلوس کے لئے تفصیلی سیکورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 4244 پولیس اہلکار سائوتھ زون میں تعینات کیے جائیں گے جن میں 191 پائلٹ اسکاٹ، 3069 روٹ کے ساتھ ، 185 جلوسوں جوکہ لائنز ایریا کی امام بارگاہوں سے نکلے گے کی سیکورٹی کے لیے،317 اہلکار عزا داروں کے منتشر روٹس کے لیے ، 250 داخلہ پوائنٹس پر ، 64 اسپتالوں میں اور 168 اہلکار کسی بھی ناگہانی صورتحال کے حوالے سے تعینات کیے جائیں گے۔

(جاری ہے)

آئی جی پولیس سندھ نے کہا کہ سائوتھ زون میں 6 امام بارگاہوں کوبہت زیادہ حساس قرار دیاگیا ہے ،ان میں 3 کلفٹن میں ، 2 سٹی ایریا میں اور ایک لیاری میں ہے جبکہ حساس امام بارگاہوں کی تعداد 40 ہے ۔جلوس 18رمضان تا 21 رمضان تک نکلیں گے ۔آئی جی پولیس سندھ نے کہا کہ 53 مجالس کو حساس قرار دیاگیاہے اور اس کے مطابق سیکورٹی پلان ترتیب دے دیاگیاہے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نے کہا کہ علما کرام، معززین، آرگنائیزرس کے ساتھ کوآرڈینیشن کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوچکے ہیں ۔ ضلعی اور سب ڈویژنل سطح پر امن کمیٹیاں ایس ایس پی اور ایس پیز کی جانب سے دوبارہ ترتیب دی گئی ہیں۔ اعزازی ٹیمیں مرد و خواتین اسکائوٹس کو پولیس کی مدد کے لیے تیار کیاگیا ہے ۔ نگراں وزیر اعلی سندھ نے محکمہ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ ہر قسم کی وال چاکنگ، بینرز، سائن بورڈز اور دیگر نفرت انگیز مواد کو ہٹا دیں ۔

اس پر ایڈیشنل آئی جی پولیس نے کہا کہ اس حوالے سے کام شروع ہوچکا ہے اور یہ کام آج شام تک مکمل ہوجائے گا۔ ڈی آئی جی سائوتھ آزاد خان نے کہا کہ جلوس کے روٹس سے رکاوٹوں /پتھاروں کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ضمانت پر رہا ہونے والے دہشتگردوں اور وہ جن کو اے ٹی اے کے 4 شیڈول میں رکھا گیا ہے کی نگرانی بھی شروع کردی گئی ہے۔ نگراں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ لائوڈ اسپیکر کا غلط استعمال ، وال چاکنگ اور نفرت انگیز مواد بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے ۔

انہوں نے محکمہ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ رینجرز ، انٹیلی جنس ایجنسیوں بشمول اسپیشل برانچ کے ساتھ قریبی روابط کو فروغ دیں تاکہ سیکوریٹی کے فول پروف اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔نگراں وزیرا علی سندھ کو بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور لوکل باڈیز کے مابین جلوسوں اور مجالس کے روٹس کی صفائی کے حوالے سے قریبی رابطہ ہے۔ اس بات کا بھی فیصلہ کیاگیا ہے کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کیاجائیگا۔

جلوس کی تفصیلات بتاتے ہوئے آئی جی پولیس سندھ نے کہا کہ یہ نشتر پارک سے شروع ہوگا اور اس کا روٹ پرانی نمائش ، صدر ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک ، ایم اے جناح روڈ تا حسینیان ایرانیان امام بارگاہ تک ہوگا۔ شرکا کی تعداد تقریبا 15ہزار کے قریب ہوگی۔اے ڈی خواجہ نے کہا کہ جلوس کے روٹ کو 6 سیکٹرز اور 15 سب سیکٹر ز میں تقسیم کیاگیاہے ، ہر ایک سیکٹر کی کمانڈ بالترتیب ایس پی اور ڈی ایس پی کریں گے۔

پلان کے تحت 40 ایمبولینسیں مجوزہ پوائنٹس پر تعینات کی جائیں گی اور پولیس کی تعیناتی کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے تحت مکمل روٹ کی سائڈ لائنیں بند کرکے سیل کی جائیں گی۔ 927 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں 308 عمارتیں ، 157 عمارتوں کی چھتیں اور 462 عمارتوں کے گیٹس شامل ہیں جہاں پر کمانڈوز تعینات کیے جائیں گے۔ پولیس پارٹی مکمل روٹس کا فیزیکل سرچ کرے گی اور مکمل روٹ کی نگرانی کے لیے کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ آئی جی پولیس نے کہا کہ جلوس میں شامل تمام گاڑیوں کو ٹریفک پولیس کی جانب سے اسٹیکرز جاری کئے جائیں گے۔