سندھ ہائیکورٹ نے عذیربلوچ، نثارمورائی اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹیز پبلک کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کردیے، عدالت نی25جون تک تفصیلی جواب طلب کرلیا

پیر جون 23:21

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) سندھ ہائیکورٹ میں عذیربلوچ، نثار مورائی،سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹیز پبلک کرنے سے متعلق تحریک انصاف کے رہنماعلی زیدی کی درخواست پر پیرکو سماعت ہوئی۔ درخواست گزار نے ک کہ چیف سیکرٹری کو خط لکھا تھا کہ قتل عام اورسنگین جرائم میں ملوث عناصر کے بارے میں آگاہی عوام کا حق ہے۔ جسکا چیف سیکریٹری نے مثبت جواب نہیں دیا۔

عزیر بلوچ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آچکے۔ حکومت سے پوچھا جائے کہ تین سال میں ان جے آئی ٹیز پر کام کیوں نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ دفعہ ستائیس اے کے تحت سندھ حکومت کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ جس پرعدالت نے سندھ حکومت کوخصوصی نوٹس جاری کرتے ہوئے 25جون تک تفصیلی جواب طلب کرلیا۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علی زیدی نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے ٹیکنیکل بنیاد پر ایک اور تاریخ مانگ لی۔

مہاجروں کے نام پرسیات کرنے والے بھی واقعات میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آخری دم تک شہریوں کے حقوق کے لئے لڑیں گے۔علی زیدی نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پبلک کی جائے اگر جے آئی ٹی کی رپورٹ سچ ہے تو پولیس والوں و چوڑیاں پہن کر گھر بیٹھ جانا چاہئے۔