عام انتخابات 2018ء کے لیے کاغذات نامزدگی وصول اور جمع کرانے کا عمل شروع ہوگیا

پیر جون 23:28

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) عام انتخابات 2018 کے لیے کاغذات نامزدگی وصول اور جمع کرانے کا عمل شروع ہوگیا ہیجو 8 جون تک جاری رہے گا۔ پیر کو کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرنے میں سب سے تیزی سندھ میں دیکھی گئی۔ الیکشن کمیشن کے کراچی میں واقع صوبائی دفتر سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 کے لیے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے۔

متحدہ مجلس عمل کے امیدوار اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 247 کے لیے نامزدگی فارم حاصل کیے۔۔ایم کیو ایم کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اویس شاہ نے این اے 244 اور سابق ایم پی اے پنجومل بھیل نے اقلیتی نشست پر فارم حاصل کیا۔ جماعت اسلامی کے ہارون سرفراز نے این اے 241 جبکہ محمد خان اعوان نے پی ایس 96 کے لیے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرلیے۔

(جاری ہے)

تحریک انصاف کے سیف الرحمان نے این اے 242 کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کیے۔فنکشنل لیگ کے سابق ایم پی اے لکشمن داس، پیپلز پارٹی کے رہنما رمیش کمار اور تحریک انصاف کی طرف سے ڈاکٹر پہلاج رام نے اقلیتی نشست پر فارم حاصل کیے۔کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کھیل داس کوہستانی جبکہ رہنما پیپلز پارٹی ثریا جتوئی کے بیٹے نے اپنی والدہ کے لیے خواتین کی مخصوص نشت پر فارم حاصل کیا۔

حیدرآباد سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 227 کے لیے تحریک انصاف کے کیو حاکم اور این اے 225 کے لیے ذوالفقار ہالیپوٹو نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے۔صوبائی حلقے 67 پر تحریک انصاف کے علی جونیجو اور پی ایس 65 پر پاک سرزمین پارٹی کے نواب راشد نے نامزدگی فارم حاصل کیے۔۔الیکشن کمشنر سندھ کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے بعد کاغذات نامزدگی فارم کا اجراء جاری ہے، سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کی ترجیحی فہرست 8 جون تک جمع کراسکتی ہیں۔

پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کے طاہر سندھو نے این اے 130 کے لیے پہلا فارم حاصل کیا۔۔تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کے لیے اسلام آباد کے حلقہ این اے 54 سے کاعذات نامزدگی وصول کیے گئے۔۔تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے این اے 125 کے لیے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرلیا، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی نے این اے 154 سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے، اسی حلقے کے لیے شہزاد مقبول بھٹہ اور احمد حسین ڈیہر نے بھی نامزدگی فارم حاصل کیے۔

این ای157 سے علی موسیٰ گیلانی اور مخدوم زین قریشی نے کاغذات نامزدگی وصول کیے۔ سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے این اے 182، 183 اور 184 کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کیے جبکہ انہوں نے صوبائی حلقہ پی پی 276 کے لیے بھی نامزدگی فارم وصول کیے۔۔مسلم لیگ (ق) کے ڈاکٹر زین بھٹی نے این اے 80 گوجرانولہ کے لیے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کیے جب کہ عام لوگ پارٹی کے نسیم صادق نے این اے 81 کے لیے نامزدگی فارم وصول کیا۔

این اے 53 اسلام آباد کے لیے آل پاکستان تاجرایسوسی ایشن کے صدراجمل بلوچ نے کاغذات نامزدگی وصول کیے، این اے 54 سے پی ٹی آئی گلالئی سے میمونہ خان نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے۔۔پشاور میں الیکشن کمیشن کے دفتر سے انتخابات 2018 کے لیے کاغذات نامزدگی کی وصولی کا عمل شروع ہوگیا۔۔پشاور میں پہلے امیدوار عبدالاکبر خان نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 75 کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے، انہوں نے پیپلز پارٹی سے مستعفی ہو کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

بلوچستان کے ضلع چمن میں ریٹرنگ افسر کے دفتر سے اے این پی کے اصغر خان اچکزئی نے این اے 263 اور پی بی 23 کے لیے نامزدگی فارم حاصل کرلیے جب کہ اے این پی کے ہی زمرک اچکزئی اور امین اللہ کاکڑ نے حلقہ پی بی 21 حاصل کیے، بلوچستان عوامی پارٹی کے عبدالخالق اچکزئی نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی 23 کے لیے کاغذات نامزدگی فارم حاصل کرلیے۔