آکسفم پاکستان نے انڈس کنسورشیم اور سیور فوڈز کے اشتراک راولپنڈی اسلام آباد میں پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لئے مہم کا اعلان کر دیا

لله

پیر جون 23:38

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) آکسفم پاکستان نے انڈس کنسورشیم اور سیور فوڈز کے اشتراک راولپنڈی اسلام آباد میں پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لئے مہم کا اعلان کر دیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے وہ پلاسٹگ بیگز پر پابندی کے حوالے سے موثر قانون سازی کرے کہ ان خیالات کا اظہار ماحولیاتی ماہرین نے ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر ’’پلاسٹک آلودگی کے خاتمے‘‘ کی مہم سے خطاب کرتے ہوئے کیا کنسورشیم کا اہتمام انڈس کنسورشیم،آکسفم پاکستان اور سیور فوڈز نے مشترکہ طور پر کیا تھااس موقع پرآکسفم ، انڈس کنسورشیم اوریونیورسٹی کے طلبا و طالبات نے شہریوں میں بڑی تعداد میں ماحولیاتی آلودگی سے پاک کپڑے کے تھیلے (شاپنگ بیگ )بھی تقسیم کئے پاکستان میں آکسفم کے کنٹری ڈائریکٹر محمد قزلباش نے کہا کہ پلاسٹک کی اشیا بالخصوص پلاسٹک کے تھیلے اور شاپنگ بیگ ہمارے ارد گرد کے ماحول کے لئے انتہائی خطرنا ک صورتحال اختیار کر چکے ہیں جس کے خلاف بڑی پیمانے پر منظم اور فعال مہم چلانے کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ آکسفام نے ملک بھر میں پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لئے مہم میں طلبا و طالبات اور تاجروں سمیت مختلف طبقات کو شامل کیا ہے تاکہ تاکہ پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لئے عوام میں شعور پیدا کیا جا سکے انہوں نے کہا ہم ہرفرد، پالیسی سازی اور کاروبار سطح پر ماحولیاتی نظام سے پلاسٹک آلودگی کے خلاف برسرپیکا رہر گلوبل تحریک کو فروغ دینا چاہتے ہیں جس کے لئے طلبا و طالبات کے ذریعے اسلام آباد،راولپنڈی ،،لاہور اور ملتان میں پلاسٹک کے خاتمے اور پودے لگانے کی مہم شروع کی جا رہی ہے انہوں نے کہاکہ پلاسٹک کے خاتمے کی مہم کے دوران یہ بات اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال ہماری شہری اور دیہی زندگی کے لئے کس حد تک خطرناک ہے کیونکہ پلاسٹک بیگ عمومی طور پر ہمارے جنرل سٹور زسمیت ہر طرح کی خریدو فروخت میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں جنہیں استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے اور اور یہی پلاسٹک بیگ ابتدا میں ہماری سیوریج اور نکاسی کو بند کرنے کا ذریعے بنتے ہیں جو آگے چل کر سیلابوں کا موجب بنتے ہیں