اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزا یافتہ سابق سیشن جج راجا خرم علی خان کی اپنی سزا کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

پیر جون 23:43

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزا یافتہ سابق ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم علی خان کی جانب سے سزا کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ پیر کو کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ پر مشتمل جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن نے کی۔ سابق ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم علی خان اپنے وکیل سہیل وڑائچ اور راجہ رضوان عباسی کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے ۔

(جاری ہے)

راجہ راضوان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ میڈیکل رپوٹ میں بھی تشدد کوئی ثابت نہیں ہوا،غیر دانستہ طور پر اگر کسی بچے کو مارا جائے تو قابل سزا جرم نہیں ہے،آئین کے مطابق 328اے کے تحت دانستہ طور پر مارنے کی سزا موجود ہے، ویسے اگر غیر دانستہ طور پر سزا دی جانے لگے تو ہر گھر میں موجود والدین سزا کے مرتکب ہیں،طیبہ کے والدین کی جانب سے راجہ ظہور الحسن ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ عنوان :