پانی کی قلت کے خلاف جماعت اسلامی کا میئر اسلام آباد کے دفتر کے باہر احتجاجی دھر نا

پیر جون 23:48

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) جماعت اسلامی اسلام آباد کے زیر ہتمام اسلام آباد میں پانی کی بد تر ین قلت اور ٹینکراور بورنگ مافیا کے خلاف میئر اسلام آباد کے آفس کے سامنے اسلام آباد کے شہریوں کا احتجاجی دھر نا دیا گیا جس کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان وسابق ممبر قومی اسمبلی میاں محمد اسلم نے کی اس موقع پر،متحدہ مجلس عمل اسلام آباد کیصدر مولانا عبد الرئوف ، سیکرٹری جنرل محمد کاشف چوہدری، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل زبیر صفدر ، مفتی عبداللہ نے بھی خطاب کیا ۔

احتجاجی دھر نے میں سینکڑوں افرد نے شر کت کی ۔احتجاجی دھر نے کے شر کا سے خطاب کر تے ہو ئے میاں محمد اسلم نے کہا ملک کا دارالحکو مت کر بلا کا منظر پیش کر رہا ہے ،شہری اور دیہی علاقوں میں مردو خواتین اور بچے دن بھر پانی کی تلا ش میں سر گر داں نظر آتے ہیں ،حکو مت اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن نے اسلام آباد کے شہر یوں کو ٹینکراور بورنگ مافیا کے حو الے کر دیا ہے،اسلام آباد کے شہری روزانہ کی بنیاد پر چھیاسی لاکھ روپے کا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا اسلام آباد کے شہر یوں کو یو میہ 120 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے جبکہ اسلام آباد میں 59ملین گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے ،اس ساری صورتحال میں شہری تین ہزار روپے میں پانی کو ٹینکر خر یدنے پر مجبور ہیں جبکہ اجتماعی طورپر بورنگ بھی مہنگے داموں کروانے پر مجبور ہیں ،میاں محمد اسلم نے کہا اسلام آباد میں 197ٹیوب ویل ہیں جن سے شہر کو پانی کی سپلائی ہو تی ہے ان میں اسے 157خراب ہو چکے ہیں جبکہ سملی ڈیم اور خانپور ڈیم سے بھی پانی کی سپلائی کم ہو چکی ہے ، سی ڈی اے کے ہر شکایات سیل میں روزانہ 200افرد پانی کی کمی کی شکایات کر تے ہیں جبکہ صرف 20افرد کو پانی فراہم کیا جا تا ہے وہ بھی آدھا ٹینکر ، ہم پوچھنا چاہتے ہیں کے سی ڈی کے عملے نے ٹینکراور ٹیوب ویل کیوں ٹھیک نہیں کروائے انھوں نے کہا میں نے 2005میں بطور ایم این اے غازی بروتھا ڈیم سے اسلام آباد کے لیے پانی کی سیکم منظور کروائی تھی مگر اُس کے بعد اس پر کو ئی کام نہیں کیا گیا ۔

سی ڈی اے کے مو جو د ہ مالی سال کے بجٹ میں اسلام آباد میں پانی کی سکیموں کے لیے 50کروڑ رو پے رکھے گئے ہیں جو کے اُونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے اس رقم کو بڑھا یا جا ئے اور اس کا درست استعمال یقینی بنایا جا ئے ،میاں محمد اسلم نے چیف جسٹس میاں ثا قب نثا ر کا شکر یہ بھی ادا کیا جنھوں نے اسلام آباد کے اس سلگتے ہو ئے ایشو پر سوموٹو ایکشن لیا ہے ،میاں محمد اسلم نے کہا ہمارا مطالبہ ہے کہ اسلام آباد کو سملی ڈیم سے پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جا ئے جبکہ پانی کی چوری اور لائینوں کو مر مت کر کے پانی کو ضا ئع ہو نے سے بچایا جا ئے اور اسلام آباد میں نصب تمام ٹیو ب ویلوں اور ان کی مو ٹریںکو ٹھیک کر کے چلایا جا ئے تا کہ شہر بھر میں پانی کا بحران ختم ہو سکے اور ٹیویب ویلوں کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جا ئے تا کہ شہریوں کو پانی کی فراہمی بلا تعطل جا ری رہ سکے ۔

انھوں نے کہا نے کہا حکمرانوں نے دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں توانائی بحران پر قابو پانے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیے تھے مگر چار سال گزرنے کے بعد بھی حکومت اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکی اور پورے ملک کی طر ح اسلام آباد کے شہری بھی بدترین لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں ۔