خدیجہ صدیقی نے حملہ آور شاہ حسین کی رہائی کے خلاف چیف جسٹس سے اپیل کر دی

ملزم کی رہائی کیخلاف اپیل میں جاؤں گی،سپریم کورٹ تک جاؤں گی،خدیجہ صدیقی

پیر جون 23:16

خدیجہ صدیقی نے حملہ آور شاہ حسین کی رہائی کے خلاف چیف جسٹس سے اپیل کر ..
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-04جون 2018ء) :خدیجہ صدیقی نے حملہ آور شاہ حسین کی رہائی کے خلاف چیف جسٹس سے اپیل کر دی۔خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ملزم کی رہائی کیخلاف اپیل میں جاؤں گی،،سپریم کورٹ تک جاؤں گی۔تفصیلات کے مطابق اپنے ہی ہم جماعت کے ہاتھوں چھری کے 23واروں کا نشانہ بننے والی خدیجہ صدیقی نے حملہ آور شاہ حسین کی رہائی کے خلاف چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ مجھ پرحملہ کرنے والے ملزم کی رہائی ہمارے لیےبہت بڑا صدمہ ہے۔یہ پہلے ہی کہا جارہا تھا کہ وکیل کے بیٹے کوسزا نہیں ہوسکتی۔میرے جسم پرتشدد کے نشانات اب بھی موجود ہیں۔کیا مجھ پرخنجرسے حملہ کرنےوالا ملزم دندناتاپھرےگا۔انکا کہنا تھا کہ ملزم کی رہائی کیخلاف اپیل میں جاؤں گی،،سپریم کورٹ تک جاؤں گی۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ 2 سال پہلے لاہور میں قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر اس کے ہم جماعت شاہ حسین نے حملہ کیا تھا۔ملزم نے خدیجہ کی چھوٹی بہن کے سامنے خنجروں سے حملہ کردیا تھا۔ مجرم نے خدیجہ پر خنجر کے 23 وار کیے جس سے خدیجہ شدید زخمی ہوئی تھی تا ہم اس حملے میں اس کی جان بچ گئی ۔جس کے بعد اس نے بڑے باپ کے بگڑے ہوئے بیٹے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور اس کے خلاف کیس کر دیا جس کی سماعت لاہور کی مقامی عدالت میں ہوئی ۔

اس سارے عرصے میں خدیجہ صیقی کو کافی مشکلات ،دباو اور ملزمان کی جانب سے دھمکیوں کا بھئ سامنا کرنا پڑا لیکن خدیجہ ڈٹی رہی اور آخر کار 29 جولائی 2017 کو خدیجہ صدیقی کو کامیابی ملی اور سوا سال بعد ملزم شاہ حسین اپنے انجام کو پہنچ گیا۔مقامی عدالت نے خدیجہ صدیقی کیس میں مجرم شاہ حسین کو سات سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے شاہ حسین کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خدیجہ نے میڈیا اور وکلا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی، 23 خنجروں کا حساب لینا تھا جو مل گیا۔تاہم اس کے بعد ملزم نے اپنی سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی جس پر فیصلہ سناتئ ہوئے آج لاہور ہائیکورٹ نے مقامی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور ملزم کو باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔کیس کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل کا موقف کا تھا کہ واقعے کی گواہیاں قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اترتیں۔