کمشنر سکھر کی زیر صدارت یوم شہادت حضرت علی علیہ السلام کے موقع پر سکیورٹی انتظامات کے سلسلے میں اجلاس

پیر جون 23:40

سکھر۔ 4جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جون2018ء) کمشنر سکھر ڈویژن ڈاکٹر محمد عثمان چاچڑکی زیر صدارت ان کے آفس کے کانفرنس روم میں 21رمضان المبارک یوم شہادت حضرت علی علیہ السلام کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے اور امن امان برقرار رکھنے کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں ،ضلع انتظامیہ اور علماء کرام کا اہم اجلاس ہوا جس میں کمانڈنٹ رینجرر سکھر کرنل امتیاز سمیت مختلف اضلاع کے دپٹی کمشنرز،،پولیس اور متعلقہ محکموں کے افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

کمشنر سکھر ڈویژن نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کی صحیح رہنمائی کریں ، جبکہ نفرت پھیلانے والے مواد کے پھیلائو کو روکنے کے لئے سنجیدہ کوششیں لینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نی کہا کہ پاکستان کے دشمن موقعے کی تلاش میں ہیںکہ کسی طرح ملکی حالات خراب کئے جائیں،اس لئے علماء کرام لوگوں کو امن اور بھائیچارے کی فضا کو برقرار رکھنے پر زور دیں اور نوجوان نسل کی رہنمائی کریں، ایک دوسرے کا احترام کیا جائے اور دوسروں کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ تصدیق کے بغیرکسی بھی واقعے کا ایس ایم ایس نہ پھیلایا جائے جس سے انتشار پھیل سکتا ہے آئندہ نسل کو پر امن معاشرہ دینے کیلئے اپنی جذبات پر کنٹرول کرناچاہئے ۔کمشنر سکھر نے کہا کہ مجالس اور جلوسوں کے مقامات کی بم ڈسپوزل ٹیمیوں سے سرچ کروائی جائے،جبکہ پولیس ہر جلوس کی وڈیو بنانے کی پابند ہوگی ۔انہوں نے ڈی سیز کو بھی ہدایت کی کہ سخت گرمی کی وجہ سے ہیٹ اسٹروک کیمپ قائم کیے جائیں،جبکہ 21رمضان المبارک پر جلوسوں کے دوران فائر برگیڈ اور ایمبولنسز کو الرٹ رکھا جائے اور ہسپتال کو 24گھنٹے کھلا رکھا جائے ۔

کمشنر سکھر نے میونسپل اور ٹی ایم اوز کو ہدایت کہ صفائی ستھرائی کے ساتھ پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ، جبکہ سیپکو کو مجلس کے وقت لوڈشیڈنگ سے گریز کرنے کاکہا جائے،انہوں نی ہدایت کی کہ ضلع میں امن کمیٹیوں کو فعال بنایا جائے ۔کمانڈنٹ رینجرس سکھر کرنل امتیاز نے علماء کرام پر زور دیا کہ مجالس اور جلوسوں کے وقت کی پابندی کو یقینی بنایا جائے اور پابندی والے علماء کو نہ بلایا جائے ،جبکہ نفرت پھیلانے والی تقاریرسے گریز کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کی نمائش اور وال چاکنگ پر مکمل پابندی ہے ۔