جاپان، سرکاری اراضی کی دستاویزات میں ردوبدل پر 20 عہدیداروں کے خلاف محکمانہ کارروائی

منگل جون 10:00

ٹوکیو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) جاپان کی وزارت خزانہ نے سکول کے منتظم ادارے موریتومو گاکٴْواین کو سرکاری اراضی کی فروخت کے متنازع سودے سے متعلق دستاویزات میں ردوبدل کے بارے میں اپنی اندرونی تفتیش کے بعد 20 اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ جاپان کے نشریاتی ادارے کے مطابق وزارت کی تفتیشی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ دستاویزات میں ردوبدل اٴْس وقت کے مالیاتی بیورو کے سربراہ نوبٴْوہیسا ساگاوا کے احکامات پر کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

اطلاعات کے مطابق ساگاوا نے گزشتہ سال موریتومو گاکواین کو اراضی کی فروخت کے سودے کا دفاع کیا تھا۔ تنازع سامنے آنے پر انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وزارت کا منصوبہ ہے کہ تادیبی کارروائی کے طور پر ان کے ریٹائرمنٹ الاؤنس سے 3 ماہ کی تنخواہ کے برابر رقم منہا کر لی جائے۔ ساگاوا کے ایک سابق سینئر ماتحت کی ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر رقم ضبط کی جائے گی۔ دیگر متعلقہ عہدیداروں کوباضابطہ تنبیہہ سے لے کر تنخواہ میں کمی جیسے مختلف تادیبی اقدامات کا سامنا ہوگا۔ واضھ رہے کہ وزیر اعظم کی اہلیہ آکئے آبے کو اس اراضی پر تعمیر ہونے والے نئے سکول کی اعزازی پرنسپل مقرر کیا گیا تھا جس کے باعث سودے میں اقربا پروری کے شبہات سامنے آئے تھے۔