سپریم کورٹ نے لگژری گاڑیوں کے کیس میں مولانا فضل الرحمان،عبدالغفورحیدری اور کامران مائیکل کونوٹسزجاری کردئیے ‘

ذاتی حیثیت میں عدالت طلب مولانا فضل الرحمان کے توجانثارہی بہت ہیں،جانثاروں کی وجہ سے کوئی فضل الرحمان تک پہنچ ہی نہیں سکتا‘لگژری گاڑیوں کے اخراجات قوم برداشت کرتی ہے‘مولانا فضل الرحمان قوم کا پیسہ کیوں استعمال کر رہے ہیں،ان کے پاس تومدارس اور دولت بہت ہے‘چیف جسٹس کے دوران سماعت ریمارکس

منگل جون 12:08

سپریم کورٹ نے لگژری گاڑیوں کے کیس میں مولانا فضل الرحمان،عبدالغفورحیدری ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) سپریم کورٹ نے لگژری گاڑیوں کے معاملے پرمولانا فضل الرحمان،عبدالغفورحیدری اور کامران مائیکل کونوٹسزجاری کرتے ہوئے کل ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا،،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگڑری گاڑیوں کے اخراجات قوم برداشت کرتی ہے،مولانا فضل الرحمان قوم کا پیسہ کیوں استعمال کر رہے ہیں،ان کے پاس تومدارس اور دولت بہت ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سرکاری افسران اوروزراکی لگژری گاڑیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ تمام وفاقی وزراسے لگژری گاڑیاں واپس لے لی ہیں،مولانا فضل الرحمان اورعبدالغفورحیدری سے بلٹ پروف گاڑیاں واپس نہیں لیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کامران مائیکل سے بھی بلٹ پروف گاڑی واپس نہیں لی۔

(جاری ہے)

اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فضل الرحمان کوبلٹ پروف کیساتھ ڈبل کیبن گاڑی بھی ملی ہے،بلٹ پروف دیدی توڈبل کیبن گاڑیوں کی کیاضرورت ہی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے توجانثارہی بہت ہیں،جانثاروں کی وجہ سے کوئی فضل الرحمان تک پہنچ ہی نہیں سکتا،لگژری گاڑیوں کے اخراجات قوم برداشت کرتی ہے،مولانا فضل الرحمان قوم کا پیسہ کیوں استعمال کر رہے ہیں،ان کے پاس تومدارس اور دولت بہت ہے وہ اپنی سکیورٹی کا خود انتظام نہیں کرتے۔