سندھ ہائی کورٹ نے سندھ کو سات ریاستوں میں تقسیم پر صوبائی حکومت، چیف سیکریٹری، کمشنرکراچی اور دیگرفریقین سے پانچ جولائی تک تفصیلی جواب طلب کر لیا

منی پاکستان کا نام دے کر کراچی کے ساتھ بدترین سلوک کیا جارہا ہے، ،لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کو تیار ہیں،ڈھائی کروڑ آبادی کا تو ملک ہوتا ہے ہم نے شہر بنایا ہوا ہے،سندھ ہائی کورٹ

منگل جون 12:45

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے سندھ کو سات ریاستوں میں تقسیم کی درخواست پر صوبائی حکومت، چیف سیکریٹری، کمشنرکراچی اور دیگرفریقین سے پانچ جولائی تک تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے کہاکہ منی پاکستان کا نام دے کر کراچی کے ساتھ بدترین سلوک کیا جارہا ہے،لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کو تیار ہیں،ڈھائی کروڑ آبادی کا تو ملک ہوتا ہے ہم نے شہر بنایا ہوا ہے۔

منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل سنگل بینچ نے سندھ کو سات ریاستوں میں تقسیم کرنے کی درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار کا موقف تھا کہ کراچی کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، سندھ کو 7 ریاستوں میں تقسیم کیا جائے۔۔عدالت عالیہ نے صوبائی حکومت، چیف سیکریٹری، کمشنرکراچی اور دیگرفریقین سے پانچ جولائی تک تفصیلی جواب طلب کرلیا کہ کراچی کو انتظامی طور پر کیسے الگ کیا جاسکتا ہی صوبے کی تقسیم یا نئے اضلاع بنانے سے متعلق طریقہ کار اور قانون بھی بتایا جائے۔

(جاری ہے)

جسٹس عقیل عباسی نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ کراچی کو منی پاکستان کا نام دے کر اس شہر کے ساتھ بدترین سلوک کیا جارہا ہے، لوگ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کو تیار ہیں، شہر میں پانی اور بجلی کا حال سب کے سامنے ہے، ڈھائی کروڑ آبادی کا تو ملک ہوتا ہے ہم نے شہر بنایا ہوا ہے، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں 50 لاکھ آبادی سے زیادہ کا شہر نہیں ہوتا، بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو شرم نہیں آتی۔

کچھ کرنے کی ہمت اور عزم ہوتا تو اس شہر کا بیڑہ غرق نہیں ہوتا۔فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ حالت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے کاغذات نامزدگی کا کیا حشر کیا، کرپٹ لوگوں کا راستہ روکنیکا طریقہ ختم کردیا گیا، اب چور ڈاکو مجرم سب انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور بد دیانتی ہے،پچھلے چار برسوں میں لوگ کرپشن اور بددیانتی کی وجہ سے نااہل ہوئے، انتخابات سر پر ہیں، ہم کوئی حکم جاری کردیں تو اور مسائل پیدا ہوں گے۔