انقلاب کے آغاز میں خمینی کے حکم پر پھانسی کی سزائیں دی گئیں، ایرانی عالم دین

سابق وزیراعظم ھوید کے ٹرائل کی تکمیل سے قبل ہی اسے موت کے گھاٹ اتاردیاگیا،محسن کدیورکامضمون

منگل جون 13:22

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) ایران میں 1979ء میں برپا ہونے والے نام نہاد اسلامی انقلاب کے بعد چن چن کر سیاسی مخالفین اور انقلاب کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو ماورائے عدالت موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسی حوالے سے ایک تازہ انکشاف ایک ایرانی اسلامی اسکالر محسن کدیور نے اپنی ویب سائیٹ پر شائع کیے گئے ایک مضمون میں کیا اورکہاکہ انقلاب کے ابتدائی عرصے میں بڑی تعداد میں مخالفین کو ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خمینی کے حکم پر تختہ دار پر لٹکایا گیا۔

کدیور کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی عرصے میں ایران میں سزائے موت کے نفاذ کی ذمہ داری خمینی کے مقرب مذہبی لیڈر صادق خلخالی کو سونپی گئی تھی اور وہ تنہا سزائے موت کے پروانے جاری کرتے تھے۔

(جاری ہے)

علامہ کدیور نے اس وقت کے وزیر انصاف اسد اللہ مبشری کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہے جن کی موجودگی میں شاہ ایران کے دور کے وزیراعظم کے ٹرائل کا ذکر ہے۔ایرانی اپوزیشن رہ نما جو امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں کا کہنا تھا کہ ایرانی بادشاہ کے وزیراعظم کو جیل میں موت کے گھاٹ اتارے جانے کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسے عدالت میں مقدمہ چلانے کے بعد سزا دی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انقلاب کے آغاز میں مھدی ھادوی ایران کے پراسیکیوٹر جنرل تھے۔ انہوں نے بھی سابق وزیراعظم ھوید کے ٹرائل کی تکمیل سے قبل ہی اسے موت کے گھاٹ اتارے جانے کی توثیق کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ھویدا کے قتل کے حوالے سے 1979ء میں وضع کردہ قوانین کی پاسداری بھی نہیں کی گئی۔