جسٹس (ر) دوست محمد خان خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ منتخب

دوست محمد خان 2014 میں سپریم کورٹ کے جج بنے ،ْ 19 مارچ 2018 کو مدت پوری کرکے ریٹائر ہوئے خیبر پختونخوا میں موبائل کورٹس اور پشاور ہائی کورٹ میں ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ کا قیام بھی جسٹس دوست محمد کے دور میں عمل میں آیا

منگل جون 13:40

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) جسٹس (ر) دوست محمد خان کو نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے کیلئے منتخب کرلیا گیا۔خیبر پختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ کی نامزدگی کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کوئی فیصلہ نہ ہونے پر یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا گیا تھا۔منگل کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کی صدارت میں الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس ہوا۔

ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی مشاورت کے بعد الیکشن کمیشن حکام نے پریس کانفرنس کے دوران نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے طور پر جسٹس (ر) دوست محمد خان کے نام کا اعلان کیا۔۔الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن اختر نذیر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے 4 نام بھجوائے گئے تھے نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے جسٹس (ر) دوست محمد خان کو نگراں وزیرِ اعلیٰ منتخب کرلیا گیا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے 4 نام سامنے آئے تھے۔اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے مراسلے میں صوبے کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے 4 نام دیئے گئے تھے، جن میں حکومت کی جانب سے حمایت اللہ خان اور اعجاز قریشی کے نام شامل تھے، جبکہ اپوزیشن کی طرف سے منظور آفریدی اور جسٹس (ر) دوست محمد کا نام دیا گیا تھا۔

جسٹس دوست محمد 1953 میں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بنوں سے گریجویشن اور پھر کراچی سے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بنوں میں ہی وکالت کی پریکٹس شروع کی اور بنوں بار اور پھر پشاور ہائی کورٹ بار کے صدر بنے۔2002 میں وہ پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج بنے اور 2003 میں پشاور ہائی کورٹ کے مستقل جج کے طور پر حلف اٹھایا جبکہ 2011 میں انہیں پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا۔

دوست محمد خان 2014 میں سپریم کورٹ کے جج بنے اور 19 مارچ 2018 کو مدت پوری کرکے ریٹائر ہوگئے۔۔پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے انہوں نے ڈرون حملوں، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو تاحیات ناہل قرار دینے، خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کے معاہدوں اور لاپتہ افراد کے بہت سارے کیسز پر فیصلے دیئے۔خیبر پختونخوا میں موبائل کورٹس اور پشاور ہائی کورٹ میں ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ کا قیام بھی جسٹس دوست محمد کے دور میں عمل میں آیا۔