چین میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ،غیر ملکی مسلمان طلباء

مسلمان مذہبی خضوع و خشو ع کے ساتھ ماہ رمضان المبارک مناتے ہیں ،کوئی پابندی نہیں ہے

منگل جون 14:04

چین میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ،غیر ملکی مسلمان طلباء
بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) چین میں رہائش پذیر غیر ملکی مسلمانوںنے ماہ رمضان المباک آزادنہ ماحول میں مذہی خضوع و خشوع سے منایا ،وسطی چین کے صوبہ ہنان کے دارالحکومتی شہر جنگجو یونیورسٹی میں میڈیسن اور سرجری کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم ڈاکٹر عمران نواب نے کہا مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے ،اس نے چین میں پانچ مرتبہ رمضان گزار اور اپنے قیام کے دوران اسے انتہائی اچھا تجربہ حاصل ہوا،روزہ رکھنے پر پابندی کی کوئی علامت نہیں مقامی چینی میڈیا کو ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عمران نواب نے کہا مقامی چینی مسلمان انتہائی باعمل مسلمان ہیں وہ روزے رکھتے ہیں اور نماز کی ادائیگی کیلئے مساجد جاتے ہیں ،جہاں تک مجھے پتہ ہے شہر میں چار مساجد تھیں ملائیشیا کے ایک کاروباری شخص حاجی رحمت نے کہا کہ اس نے تین مرتبہ چین میں رمضان گزارا ہے ان میں سے ایک جنوبی چین کے صوبہ گوانگ ڈائونگ کے دادالحکومتی شہر گوانگ جو ،دوسرا شمال مغربی چین کے سنکیانگ یغور خودمختار علاقے کے دارالحکومتی شہر ارومچی میں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وہاں کے مسلمان آزادی سے مذہبی فرائض ادا کرتے ہیں اور رمضان پر کوئی پابندی نہیں ہے ،جیسا کے بعض غیر ذمہ دار میڈیا نے حال ہی میں اطلاع دی ہے ،عبدالودو ملا فرحان ملاجو ایک امارتی ہے اور اس وقت گوانگ جو شہری ہوابازی کالج میں زیر تعلیم ہے اس افواء کی تردید کی کہ چینی حکومت روزہ رکھنے کیلئے مسلمانوں پر پابندیاں عائد کرنے کی پالیسیوں پر عمل درآمد کرتی ہے ۔

گوانگ جو کے مسلمان انتہائی دوست نواز ہیں اور وہ اسی طرح رمضان گزارتے ہیں جیسے عرب ممالک کے مسلمان ،،چین میں مسلمانوں کی تعداد ایک کروڈ سے زیادہ ہے اور سیکڑوں مساجد ہیں ان میں سے زیادہ تر سنکیانگ کے علاقے میں ہیں جہاں ماہ صیام کے دوران صلوة و ترویح کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں ۔ارومچی میں جامع مسجد کی مرکزی مسجد کے سربراہ امام ابوحنیف نے ٹیلی فون پر اس نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ماہ صیام میں مذہبی رسومات منانے کی مکمل آزادی حاصل ہے چینی حکومت ایسا کرنے میں ہمیں سہولت فراہم کرتی ہے ،خدیجہ نامی ایک یاگو خاتون نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ہمیں کافی تحفظ اور احترام فراہم کیا ہے اور یہ بات غلط ہے کہ سنکیانگ میں رمضان پر پابندیاں عائد ہیں ۔

اس نے بتایا کہ اس کے خاندان نے ہمیشہ یہاں آرام دہ ماحول پایا ہے ،مغرب میں مفاد پرستوں کی طرف سے مسلسل پرائوپگینڈ کیا جا رہا ہے کہ چینی مسلمانوں کو قرآن و سنت کے مطابق اپنے مذہبی عقائد کی ادائیگی کی آزادی نہیں ہے ،مرکزی حکومت اور انتہائی مغربی علاقے سنکیانگ کے حکام کی طرف سے چین میں مذہبی حقوق کے تحفظ کے ایک اعلان اس پرائوپگینڈے کو مسترد کر دیا ہے کہ چین کے مسلمانوں کو ماہ رمضان المبارک میں پابندیوں اور ممانیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،گذشتہ سال مرکزی کابینہ کے دفتر اطلاعات نے سنکیانگ میں مذہبی عقائد کے عنوان سے ایک قرطاس ابیض شائع کیا جس میں روزہ رکھنے اور دیگر اسلامی رسومات کے بارے میں مسلمان برادری پر پابندیوں کے بارے میں مغرب کے غیر مصدقہ اور جھوٹے دعاوی کو بالکل مسترد کر دیا گیا ہے ۔