ماڈل ٹائون ،ْ بنی گالا اور بلاول ہائوس بھرپور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے

امیدوار ٹکٹ کے حصول کیلئے جوق در جوق اپنے سیاسی مراکز کا رخ کرتے نظر آئے سیاسی جماعتیں امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرنے میں ناکام پی ٹی آئی کو 1000 ٹکٹس کے لیے ملک بھر سے 4300 درخواستیں موصول ہوئی ہیں ،ْفواد چوہدری ہمارے پاس امیدواروں کے حتمی ناموں کا اعلان کرنے کیلئے کافی وقت موجود ہے ،ْشیری رحمن

منگل جون 14:11

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوتے ہی لاہور میں ماڈل ٹاؤن، اسلام آباد میں بنی گالہ اور کراچی میں بلاول ہاؤس بھرپور سیاسی سرگرمیوں کے مرکز بن گئے اور امیدوار ٹکٹ کے حصول کیلئے جوق در جوق اپنے سیاسی مراکز کا رخ کرتے نظر آئے۔اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی اور صوبائی بورڈز اور کمیٹیاں گزشتہ کئی روز سے پارٹی ٹکٹ کیلئے امیدواروں کا انٹرویو کررہی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے نامزدگی فارمز جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کیے جانے کے سبب سیاسی جماعتوں کو امیدواروں کی حتمی فہرست مرتب کرنے اور اس حوالے سے درپیش مشکلات حل کرنے کیلئے مزید وقت مل گیا۔

(جاری ہے)

ادھر سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا لاہور میں 2 مرتبہ اجلاس منعقد ہوچکا ہے جبکہ کراچی کے بلاول ہاؤس میں پی پی پی کی قیادت کی جانب سے گزشتہ ہفتے سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہی اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بنی گالہ میں پی ٹی آئی بھی اپنے حتمی امیدوارچننے میں مصروف ہے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف نے اپریل کے مہینے میں انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد سے درخواستیں طلب کی تھیں تاہم پھر بھی اب تک سندھ سے محض 28 امیدوار اور قبائلی علاقے (سابق فاٹا)) سے 7 امیدوار ہی منتخب کرسکی جبکہ پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) نے ابھی تک ایک بھی امیدوار کا اعلان نہیں کیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سابق اراکین اسمبلی سے جب امیدواروں کے ناموں کا تاحال اعلان نہ ہونے کا سوال کیا گیا تو ان کی جانب سے کہا گیا کہ کہ امیدواروں کی جانب سے انتہائی بڑی تعداد میں درخواست دینے کے سبب امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دینے میں تاخیر ہورہی ہے۔

اس ضمن میں پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسمبلیاں تحلیل ہونے سے 2 ماہ قبل ہی امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی تھیں لیکن ہمیں پارٹی کے اراکین اور ورکرز کی جانب سے اس قدر بھرپور ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو 1000 ٹکٹس کے لیے ملک بھر سے 4300 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، تاہم ہماری جماعت اس عمل میں مزید تاخیر نہیں کرنا چاہتی اس لیے بدھ تک ہم اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی وہ پہلی جماعت ہے جس نے پہلی مرتبہ ملک میں انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد سے آن لائن درخواستیں طلب کیں، اس سلسلے میں قومی اسمبلی کیلئے پارٹی ٹکٹ کے امیدواروں نے ایک لاکھ روپے جبکہ صوبائی اسمبلی کے خواہشمند افراد نے درخواست کے ہمراہ ناقابل واپسی 50 ہزار روپے جمع کرائے ہیں۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمن نے بتایا کہ پارٹی کی جانب سے گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں پارٹی ٹکٹ کے خواہشمند افراد کے انٹرویو کیے جارہے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ پارٹی حتمی امیدواروں کا اعلان کرنے سے قبل ہر ایک خواہشمند فرد کا انٹرویو لینا چاہتی ہے اور حوالے سے ایک طویل طریقہ کار پر عمل کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وقت سے ہی امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہیں تاہم انہوں نے خواہشمند افراد کی تعداد بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی کو ملک بھر سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں، ایک ایک حلقے سے درجن کے قریب خواہشمندوں نے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس امیدواروں کے حتمی ناموں کا اعلان کرنے کیلئے کافی وقت موجود ہے اور ہم امیدواروں کے ناموں کا جلد از جلد اعلان کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکز ماڈل ٹاؤن میں پارلیمانی بورڈ نے لاہور،، سرگودھا اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کا انٹرویو کیا، اجلاس کی سربراہی مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کی جبکہ ان کے ہمراہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی موجود تھے۔

اس ضمن میں پارٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما چوہدری نثار علی خان نے پارٹی ٹکٹ کیلئے درخواست تک نہیں دی۔ذرائع نے بتایا کہ لاہور کی 14 قومی اسمبلی کی نشستوں کیلئے 68 درخواستیں موصول ہوئیں ،ْ30 صوبائی نشستوں کے پارٹی ٹکٹ کیلئے 458 افراد نے درخواستیں جمع کرائی گئیں تاہم پارلیمانی بورڈ نے صرف شارٹ لسٹ امیدواروں کا انٹرویو لیا۔

رپورٹ کے مطابق مریم نواز قومی اسمبلی کے حلقہ 125 سے انتخابات میں حصہ لیں گی، پارلیمانی بورڈ کی جانب سے اب تک جن اہم رہنماؤں کے ناموں کو حتمی شکل دی گئی ہے اس میں شہباز شریف،، حمزہ شہباز،، خواجہ سعد رفیق،، افضل کھوکھر، ملک ریاض،، سردار ایاز صادق،، روحیل اصغر، پرویز ملک اور مہر اشتیاق شامل ہیں۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما مشاہد اللہ نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ دیئے جانے کے معاملے میں پارٹیوں میں اختلاف ہونا کوئی انوکھی بات نہیں، انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) جو پنجاب تک محدود جماعت سمجھی جاتی ہے، کو کراچی اور سندھ کے دیگرعلاقوں سے بھرپور ردعمل موصول ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) نے کراچی سے قومی اسمبلی کے ٹکٹ کے خواہشمند 21 امیدواروں کے ناموں کوحتمی شکل دے دی ہے۔