شہباز شریف نے کہا تھا کہ وعدے پورے نہ کروں تو نام بدل دیں‘

اب وہ اپنا نام شبانہ رکھ لیں‘فواد چوہدری

منگل جون 15:09

!اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ وعدے پورے نہ کروں تو میرا نام بدل دیں‘ اب وہ اپنا نام شبانہ رکھ لیں‘نوازشریف کو اپنی الیکشن مہم معافی سے شروع کرنی چاہئے‘چیف جسٹس نے جمہوریت اور آئین کیلئے جو اپنی پوزیشن واضح کی ہے وہ قابل تعریف ہے‘ چور،، ڈاکو لٹیرے اسمبلیوں میں نہ پہنچیں اس کیلئے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن امیدواروں کی اضافی معلومات بھی طلب کرے‘عمران خان کا کتا شیرو بھی مشہور ہے، عمران خان سے جس کا بھی تعلق ہو وہ مشہور ہوہی جاتا ہے‘ ریحام کی کتاب کا مواد واہیات اور گھٹیا ہے‘الیکشن سے دو ماہ پہلے کتاب کا شوشہ چھوڑا گیا ‘ کیا کوئی خاتون اس کتاب میں لکھی باتیں جوان بیٹے اور بیٹی سے ایڈٹ کرانے کا تصور کرسکتی ہی ‘ریحام اپنے اخراجات کیسے پورے کررہی ہیں ‘یہ رائے ونڈ نیٹ ورک ہے جسے حسین حقانی کے ذریعے آپریٹ کیا گیا‘ریحام خان 24 گھنٹوں میں اس کتاب کے زیرگردش مواد کی تردید کریں ورنہ ان کی کتاب کا مواد شدید ترین قانونی کارروائی کا متقاضی ہے‘الیکشن کمیشن اور اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس کتاب کا نوٹس لے اور اس پر پابندی عائد کرے‘ریحام خان کو ہماری خاندانی اقدار کی کوئی پروا نہیں ہے‘اس بکواس سے پی ٹی آئی کے چاہنے والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

(جاری ہے)

منگل کو فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو اپنی الیکشن مہم مافیا سے شروع کرنی چاہئے۔ نواز شریف کو دو باتوں ایک اسٹبلشمنٹ کے سہارے سیاست میں آنے اور پانچ سال سے کئے ہوئے جھوٹے وعدے جو عوام سے کئے ان پر معافی مانگیں۔ شہباز شریف کو اپنے کئے ہوئے وعدوں پر معافی مانگی چاہئے۔ شہباز شریف کو اب اپنا نام بدل دینا چاہئے۔

فارم تبدیلی میں پی ٹی آئی اس کمیٹی کا حصہ نہیں تھی پاکستان تحریک انصاف نے اس معاملے پر شدید احتجاج کیا۔ فارم میں جو تبدیلی ہوئی وہ صرف چوروں اور ڈاکوئوں کو بچانے کے لئے کی گئی۔ سینٹ میں تحریک انصاف کے لیڈر آف دی ہائوس انہوں نے ترمیمی بل پیش کیا اس بل کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مل کر پاس نہیں ہونے دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کہہ چکے ہیں کہ انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس کے اس بیان پر تمام جماعتیں تعریف کرتی ہیں عدلیہ نے پاکستان کے آئین کو سرخرو کیا ہے اس پر پاکستان کی عوام ان کے شکر گزار ہیں۔ عمران کا کتا شیرو بھی میڈیا کے اوپر مشہور ہے۔ مجھے امید تھی ریحام خان اپنی کتاب پر تردید کریں گی یہ کتاب حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ریحام خان نے اپنی کتاب پر تردید نہیں کی۔ الیکشن سے ساٹھ دن پہلے یہ کتاب کیوں لائی جارہی ہے۔

بے نظیر 1986 میں پاکستان آئی تھیں 1987 میں ماڈل ٹائون میں سیل بنایا گیا اس سیل کے سربراہ حسین حقانی تھے۔ بے نظیر بھٹو کی جعلی تصاویر بنائی گئیں عمران خان اور ریحام خان میں طلاق کو تین سال ہوگئے اس ذہنیت کے لوگ ہیں ہمارے سیاستدان 1996 میں عمران خان کے اوپر سیتا وائٹ سکینڈل لایا گیا۔ سیاست میں اپنے حریفوں کو نیچا دیکھانے میں یہ لوگ کس حد تک گر سکتے ہیں۔

کوئی کتاب میں کوئی چیز ایڈٹ کروا سکتی ہی مشرقی کیا مغربی عورت بھی اپنے بیٹے یا بیٹی سے کتاب ایڈٹ نہیں کراسکتی۔ میں چیئرمین پیمرا کو کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنا فرض ادا کریں ۔1990 میں الیکشن سے قبل مصطفی کھر پنجاب کے بڑے لیڈر تھے ان کے ساتھ بیٹھ کر حسین حقانی مائی فیوڈل لارڈ کی پریس کانفرنس ی تھی سلمان احمد نے کہا ہے کہ ایک لاکھ پائونڈ ریحام خان کو دیئے شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف کتاب لکھوانے کے لئے ۔

ریحام خان تین سال سے کوئی کام نہیں کررہی۔ الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ اسی طرح کی کتاب الیکشن کے خلاف سازش سمجھ کر پابندی لگا دی جائے اس ساری سکیم کے پیچھے رائیونڈ نظر آرہا ہے۔ حنیف خان ین کہا تھا کہ الیکشن سے قبل ریحام خان کی کتاب آگئی پھر کیا ہوگا۔ اس کتاب کا مواد عابد شیر علی‘ رانا ثناء الله اور حنیف عباسی کے پاس کیسے آیا میں ریحام خان سے ڈیمانڈ کرتا ہوں کہ وہ چوبیس گھنٹے کے اندر اس بات کی تردید کریں وگرنہ اس کتاب کے خلاف شدید کارروائی کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن اس کتاب کا فوری نوٹس لے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ عمران خان کے چاہنے والوں کو اس کتاب سے ذرا فرق نہیں پڑتا انہیں پتا ہے اس سازش کے پیچھے کون ہے۔ اس سے پہلے یہ لوگ تحریک انصاف کے جلسوں میں خواتین کو نشانہ بنایا گیا اس طرح اب عمران خان کو بتایا جارہا ہے۔ چیف جسٹس دوست محمد خان بہت قابل احترام ہیں ہمیں ان کا نام قبول ہے عمران خان کے اوپر ایک کرپشن کا الزام نہیں۔

میں نے الیکشن کمیشن کو لیٹر لکھ کر بتایا اور توجہ دلائی کہ تین تعیناتیاں کی گئیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب‘ چیئرمین پیرا کے معاملات پر آگاہ کیا جب الیکشن کمیشن پر بات کی جائے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔ جاتے ہوئے یہ لوگ اکیسویں گریڈ کی تعیناتیاں کرگئے ہیں۔ ماروی میمن دس ارب روپے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت سے فیکٹ لسٹ چلائی جارہی ہیں تمام پارلیمانی بورڈز نے متفقہ طور پر امیدوار لئے ہیں۔ 4400 درخواستیں ہمارے پاس آئی ہیں ان کا انٹرویو عمران نہیں کرسکتے ابھی کسی کا ٹکٹ انائونس نہیں کیا گیا۔