نگران وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا،

صدر مملکت ممنون حسین نے 6 نگران وفاقی وزراء سے ان کے عہدے کا حلف لیا، نگران وزیراعظم ناصر الملک کی بھی تقریب میں شرکت حلف اٹھانے والے نگران وزراء میں عبداللہ حسین ہارون ، محمد اعظم خان ، ڈاکٹر شمشاد اختر ، سید علی ظفر ، محمد یوسف شیخ اور مسز روشن خورشید بروچہ شامل ہیں صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے نگران حکومت اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائے گی، کابینہ میں اچھی شہرت رکھنے والے اور تجربہ کار افرادکو شامل کیا گیا ہے جو قانون کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ قوم کی توقعات پر بھی پورا اتریں گے، صدر مملکت ممنون حسین کی نگران کابینہ سے ملاقات میں گفتگو معاشی صورتحال کو مستحکم بنانا ترجیح ہوگی، ڈاکٹر شمشاد اختر، ملک کا تشخص بلند کرنے کے لئے میرے پاس کئی نئے آئیڈیاز ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک عمومی طرز کے امریکی صدر نہیں ہیں، پاکستان کو یہ ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے ساتھ کس طرح روابط استوار کرنا ہیں، عبداللہ حسین ہارون، منصفانہ ،شفاف اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معاونت کرنا ترجیح ہوگی، بیرسٹر علی ظفر، خواتین اور انسانی حقوق کے مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہوں گی، روشن خورشید بروچہ کی اے پی پی سے مختصر گفتگو

منگل جون 15:14

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) نگران وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ۔۔صدر مملکت ممنون حسین نے 6 نگران وفاقی وزراء سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ اس سلسلے میں تقریب منگل کو ایوان صدر میں ہوئی جس میں نگران وزیراعظم ناصر الملک بھی موجود تھے۔ حلف اٹھانے والے نگران وزراء میں عبداللہ حسین ہارون ، محمد اعظم خان ، ڈاکٹر شمشاد اختر ، سید علی ظفر ، محمد یوسف شیخ اور مسز روشن خورشید بروچہ شامل ہیں۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا۔ اس موقع پر قومی ترانہ بجایا گیا۔ تقریب میں سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزراء کے محکموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ صدر مملکت ممنون حسین نے حلف برداری کے بعد نئے نگران وزراء کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو پاکستان کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

دریں اثنائصدر مملکت سے نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور کابینہ کے ارکان نے ملاقات کی۔ اس موقع پر انھوں نے نگران کابینہ کے ارکان کو مبارک باد دی اور توقع کا اظہار کیا کہ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے نگران حکومت اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائے گی۔ انھوں نے کہا کہ کابینہ میں اچھی شہرت رکھنے والے اور تجربہ کار افرادکو شامل کیا گیا ہے جو قانون کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ قوم کی توقعات پر بھی پورا اتریں گے۔

صدر نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان اورباعث مسرت ہے کہ جمہوریت نے دوسری دفعہ اپنی مدت پوری کی ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر، جنہیں وزارت خزانہ ،اقتصادی امور ڈویژن ، منصوبہ بندی وترقی کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ہے، نے اے پی پی سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشی صورتحال کو مستحکم بنانا ان کی ترجیح ہوگی۔ عبداللہ حسین ہارون جنہیں وزارت خارجہ امور کا قلمدان سونپے جانے کی توقع ہے، نے کہا کہ وہ دفتر خارجہ میں ابتدائی بریفنگ حاصل کرنے اور مشاورت کے بعد آگے بڑھیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کا تشخص بلند کرنے کے لئے ان کے پاس کئی نئے آئیڈیاز ہیں تاہم وزیراعظم کی راہنمائی کے تحت یہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک عمومی طرز کے امریکی صدر نہیں ہیں، پاکستان کو یہ ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے ساتھ کس طرح روابط استوار کرنا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہر قسم کے ایشوز کو حل کرنے کے لئے مضبوط بنیادوں پر متحد اور ہم آہنگ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ان کی ترجیح عام انتخابات کے منصفانہ ،شفاف اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معاونت کرنا ہوگی۔ روشن خورشید بروچہ نے کہا کہ خواتین اور انسانی حقوق کے مسائل ان کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور وہ ان مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیں گی۔