اسرائیل کی جنرل انٹیلی جنس کے سابق چیف کا سابق وزراء اعظم، فوجی سربراہان ، اعلیٰ عسکری حکام کی جاسوسی کرنے کا اعتراف، اپوزیشن لیڈر کو آئینی تحفظ حاصل ہونے کی وجہ سے ان کی جاسوسی نہیں کی جا سکتی، عامی ایالون

منگل جون 15:25

مقبوضہ بیت المقدس ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) اسرائیل کی جنرل انٹیلی جنس کے سابق چیف عامی ایالون نے انکشاف کیا ہے کہا کہ اسرائیل کے سابق وزراء اعظم، فوج کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام کی جاسوسی کرتے رہے ہیں۔عبرانی اخبارکے مطابق عامی ایالون کا کہنا ہے کہ خفیہ ادارے شاباک کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے کئی وزراء اعظم کے ساتھ کام کیا۔

(جاری ہے)

کئی سابق سربراہان حکومت انہیں فوج کے اعلیٰ افسران کی جاسوسی کے احکامات دیتے رہے ہیں۔عامی ایالون نے بتایا کہ اسرائیل میں اگر کسی کی جاسوسی نہیں کی جاسکتی تو وہ اپوزیشن لیڈر ہے کیونکہ اپوزیشن لیڈر کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور اس کے خلاف جاسوسی کو قانونا جرم تصور کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی خفیہ اداروں کے عہدیداروں نے انکشاف کیا تھا کہ موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے بھی سابق آرمی چیف کی جاسوسی کے احکامات صادر کیے تھے۔ انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ نتین یاھو کو سابقہ آرمی چیف پر اعتبار نہیں تھا۔