پلوامہ میں مسلسل تیسرے روز بھی بھارتی فورسز اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں

شہید نوجوان کی میت حوالے نہ کرنے کی صورت میں احتجاج کیا جائے گا، اوقاف کمیٹی

منگل جون 15:25

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میںضلع کپواڑہ کے علاقے ٹنگڈار میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ایک مقامی نوجوان کی شہادت پر پلوامہ میں منگل کو تیسرے روز بھی بھارتی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق جھڑپیں قصبہ پلوامہ کے علاقے وشبگ چوک، ڈانگرپورہ چوک اور مورن چوک میں ہوئیں۔

بھارتی فورسز نے شہید نوجوان کی میت کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ فائرنگ کی اور آنسوگیس کے گولے داغے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق جواب میں نوجوانوں نے بھارتی فورسزپر شدید پتھرائو کیا ۔انہوںنے کہا کہ قصبے میں شدید کشیدگی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

علاقے کے عوام گزشتہ تین روز سے لاجورہ سے تعلق رکھنے والے شہید نوجوان شیراز احمد کی میت کا انتظار کررہے ہیں جن کو بھارتی فوجیوں نے 25 مئی کو ٹنگڈار میں ایک جھڑپ کے دوران شہید کیا تھا۔

بھارتی فورسز نے 25مئی کوکنٹرول لائن پر پانچ غیر ملکی دراندازورں کو مارگرانے کا دعویٰ کیا تھا تاہم بعد میں ضلع کولگام کے علاقے پاریگام اور ضلع پلوامہ کے علاقے لاجورہ سے تعلق رکھنے والے دو خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ شہید ہونے والے نوجوانوں میں سے دو ان کے بچے ہیں۔ دریں ا-ثناء اوقاف کمیٹی لاجورہ نے آج ایک ہنگامی اجلاس میں شیراز احمد کی میت ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ اوقاف کمیٹی کے ارکان نے دھمکی دی ہے اگرفوری طور پر میت ان کے حوالے نہ کی گئی تو وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔