کنٹرولڈ ماحولیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے سبزیوں و پھلوں کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جاسکتاہے، ماہرین زراعت

منگل جون 15:26

فیصل آباد۔5 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سبزیوں اور پھلوں کی بہترین پیداوار حاصل ہو رہی ہے لیکن مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث ان کی بڑی تعداد ضائع اور خراب ہو جاتی ہے لہٰذا اگر پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک میں کنٹرولڈ ماحولیاتی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے تو اس سے نہ صرف سبزیوں اور پھلوں کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے باعث بحری راستے سے کم خرچ میں پھلوں اور سبزیوں کی بڑی کھیپ دور دراز بیرون ممالک کو بھی بھجوائی جا سکتی ہے ، ایک ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ سمندری راستو ں سے چالیس فٹ کے کنٹینر میں بیس ٹن آم برآمد کئے جا سکتے ہیں لہٰذا پاکستان کو اپنی بہتر آم کی قسموں کو باہر کی دنیا میں بھجوانے کیلئے سنجیدگی سے کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ یہاں آم،کینو، سیب، سبز مرچ اور دیگر سبزیات کو زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کیلئے کامیاب تجربات کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں پھلوں اور سبزیوں کی سالانہ پیدا وار پندرہ ملین ٹن ہے جس میں سے تقریبا چار فیصد برآمد کی جاتی ہیں 70 فیصد مقامی سطح پر استعمال ہوتی ہیں اور باقی مقدار مناسب بعد از برداشت دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں جس سے ملکی معیشت کو نقصان ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ ایک کلو گرام آم کو بذریعہ ہوائی جہاز یورپ برآمد کرنے پر تقریبا ایک سو ساٹھ روپے فی کلو گرام کے حساب سے لاگت آتی ہے جبکہ سمندری راستے سے یہ لاگت صرف بتیس روپے فی کلو گرام رہ جاتی ہے لہٰذا ہمیں کنٹینرز کے اندر ماحول کو مناسب انداز سے کنٹرول کرتے ہوئے پھلوں اور سبزیوں کی شیلف لائف بڑھاتے ہوئے انہیں بحری راستوں سے برآمد کرنا ہوگا ۔