محکمہ تعلیم میں درجہ چہارم کی ریکروٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف،

درجہ چہارم کی تمام بھرتیاں منسوخ،ڈی پی آئی کالجز آفس کے سینئر افسران کیخلاف کاروائی کی سفارش

منگل جون 15:29

لاہور۔5 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) محکمہ تعلیم میں درجہ چہارم کی ریکروٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد درجہ چہارم کی تمام بھرتیاں منسوخ کر دی گئیں۔ ڈی پی آئی کالجز آفس کے سینئر افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی گئی، ڈائریکٹر ایڈمن امان اللہ خان کو کرپشن ، ٹیسٹ میں جعلی طریقے سے امیدواروں کو پاس کرنے اوربوگس سرٹیفیکیٹ کے ذریعے بھرتیوں سمیت قوائدوضوابط کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پراو ایس ڈی بنا دیا گیا اوراس کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

ویمن کوٹہ پر درخواست اور انٹرویو کے بغیر بھرتی کرنے پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے خلاف انکوائری کی ہدایت کردی گئی، بھرتیوں کی موثر نگرانی نہ کرنے پرایڈیشنل ڈی پی آئی کالجز کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور تمام معاملات کی چھان بین کیلئے انٹرنل آڈٹ کی سفارش کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

ڈی پی آئی کالجزآفس میں نائب قاصد، مالی، چوکیدار، ماشکی، ڈرائیور اور جونیئر کلرک کی آسامیوں پربھرتیوں میں بے ضابطگیوں پر سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کی طرف سے فوری تحقیقات کیلئے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ،کمیٹی میں ڈپٹی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ فہیم احمد خان، سیکرٹری لاہور تعلیمی بورڈریحانہ الیاس شامل تھے۔

ایچ ای ڈی کے ذرائع نے اے پی پی کو بتایا کہ ڈی پی آئی کالجز آفس میں درجہ چہارم کے ملازمین کی بھرتی کیلئے میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں، ویمن کوٹہ ،معذور کوٹہ اور ان سروس کوٹہ میں من پسند او رسفارشیوں کو نوازتے ہوئے ٹیسٹ میں جعلی طریقہ سے امیدواروں کو پاس کیا گیا اور انٹرویو میں بھی خصوصی نمبرز دیئے گئے جبکہ بغیردرخواست اور انٹرویو کے ملازمتیں دی گئیں۔

ذرائع کے مطابق درجہ چہارم کی 23 آسامیوں پر بھرتی کیلئے درخواست جمع کروانے والے 600 سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز ایک ہی دن میں لئے گئے، جونئیر کلرک کی آسامی پر غلام سبحانی نہ صرف معذور کے کوٹے پر بھرتی کیا گیا جبکہ ٹائپنگ سپیڈ میں فیل ہونے کے باوجود اسے پاس کیا گیا نیز اس نے سروس میں تجربہ کا جعلی سرٹیفیکٹ لگاکر اضافی نمبرز بھی حاصل کئے۔

ذرائع کے مطابق جونیئر کلرک اور ڈرائیور کی بھرتی میں اپنوں کو نوازنے کیلئے قوائدوضوابط کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔ ڈی پی آئی آفس کے ریکارڈ میں بھرتی ہونے والے امیدواروں کی کارکردگی رپورٹس بھی غائب کردی گئیں۔ ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے درجہ چہارم کی بھرتیوں کی شفاف طریقے سے مانیٹرنگ نہ کرنے پر ایڈیشنل ڈی پی آئی کالجزمحمد جہانگیر، ڈائریکٹر ایڈمن امان اللہ خان کو انتظامی بنیاد وںپر فوری تبادلے جبکہ تمام بھرتیاں واپس لینے اور دوبارہ بھرتی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق درجہ چہارم کی آسامیوں پر بھرتی کیلئے جعلی اسناد اور بوگس تجربے کے سرٹیفیکٹ پیش کرنے کے معاملے کی مکمل اور اعلیٰ سطحی انکوائری کی سفارش بھی کی گئی ہے، ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے ڈائریکٹر ایڈمن امان اللہ خان کو کرپشن ، جعلی ٹیسٹ اوربوگس سرٹیفیکیٹ کے ذریعے بھرتیوں سمیت قوائدوضوابط کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر فوری تبادلہ کرنے اورایچ ای ڈی رپورٹ کرنے اور پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ درجہ چہارم کے ملازمین کی بھرتی میں موثر نگرانی نہ کرنے پر ایڈیشنل ڈی پی آئی کالجزمحمد جہانگیرکو شوکاز نوٹس جاری کرنے ، ویمن کوٹہ پر درخواست اور انٹرویوز کے بغیر بھرتی کرنے پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کنزہ نازکیخلاف ریگولر انکوائری کی سفارش کی ہے۔

ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے ڈی پی آئی آفس میں مکمل شفافیت اور تمام معاملات کی چھان بین کیلئے انٹرنل آڈٹ کی بھی سفارش کی ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بیرسٹر نبیل اعوان نے اے پی پی کو بتایا کہ معاملے میں جو بھی ملوث ہوا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائیگی اور اس کیس کی ذاتی طور پر شنوائی کروں گا۔