پاکستان سمیت بہت سے ممالک کا دارومدار امریکی ڈالر پر کم ہو رہا ہے،ملک سہیل

منگل جون 15:31

پاکستان سمیت بہت سے ممالک کا دارومدار امریکی ڈالر پر کم ہو رہا ہے،ملک ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) کے چیئرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے مابین تجارتی جنگ اور دیگر ممالک سے اس کشمکش سے مختلف ممالک کے مابین ڈالر اور دیگر بین الاقوامی کرنسیوں کے بجائے مقامی کرنسی میں بین الاقوامی تجارت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس سے پاکستان سمیت بہت سے ممالک کا دارومدار امریکی ڈالر پر کم ہو رہا ہے۔

منگل کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے بھی کرنسی سویپ ایگریمنٹ کو وسعت دیتے ہوئے اس کاحجم 10 ارب یوآن سے بڑھا کر 20 ارب یو آن یا 351 ارب روپے کر دیا ہے جس سے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے 5سال قبل کرنسی سویپ کا معاہدہ کیا تھا جو کاروباری برادری کی عدم دلچسپی کے سبب کامیاب نہیں ہوا مگر اب صورتحال بدل گئی ہے۔

(جاری ہے)

اب پاکستان امریکہ سے دور اور چین کے قریب ہو رہا ہے، چین پاکستان کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر جبکہ سی پیک ایک حقیقت بن چکا ہے۔ گزشتہ سال دوطرفہ تجارت دس ارب ڈالر رہی ہے جو امسال 13 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جس میں پاکستانی درآمدات تقریباً 11 ارب ڈالر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ چین کو درآمدات کی ادائیگی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی میں کرنے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو کم ہو جائے گا اور روپے کے زوال کو بریک لگ جائے گا۔ پاکستان میںسی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والی چینی کمپنیاں بھی اپنا منافع ڈالر کے بجائے اپنی ہی کرنسی میں لے جا سکیں گی۔ اس معاہدے سے چین کو کم جبکہ پاکستان کو زیادہ فائدہ ہو گا۔ معاہدے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔