قائمہ کمیٹی کا ملک میں ثقافت کو پڑھنے لکھنے کو فروغ اور پاکستان کے تمام لوگوں تک رسائی آسان بنانے پر زور

کتابوں کے فروغ اوراسکی رسائی حاصل کرنے کیلئے زیادہ کتابوں کے میلے ملک بھر میں منعقد کیے جائیں ، کتاب بینی کے فروغ کیلئے مغرب کی طرح کتابوں کی الماریوں کے ذریعے ہائی وی وی اور دوسرے مقامات پر رکھے جائیں

منگل جون 15:39

قائمہ کمیٹی کا ملک میں ثقافت کو پڑھنے لکھنے کو فروغ اور پاکستان کے تمام ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات و ادبی ورثہ نے ملک میں ثقافت کو پڑھنے اور لکھنا کو فروغ دینے اور پاکستان کے کسی بھی علاقے میں رہنے والے لوگوں کو آسانی سے قابل رسائی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کتابوں کے فروغ اوراسکی رسائی حاصل کرنے کے لئے زیادہ کتابوںکے میلے ملک بھر میں منعقد کیے جائیں ، کتاب بینی کے فروغ کے لئے مغرب کی طرح کتابوں کی الماریوں کے ذریعے ہائی وی وی اور دوسرے مقامات پر رکھے جائیں تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات و ادبی ورثہ کا اجلاس گزشتہ روز چیرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدرات پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔

کمیٹی کوقومی ورثہ ڈویژن کی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے اگاہ کیا گیا جس میں سیاحت کوفروغ دینے کے علاوہ عوام میں سیاح کے حوالے سے شعور پیدا کرنے کے لئے ابتدائی فیسٹیول، کتاب دوستی، قومی ثقافت، عوامی میلے، کیلیگرافی کے مقابلے ،شامل ہیں کمیٹی میں بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی جانب سے مہر گڑھ، میکلی قبر ستان، موہنجوداڑو قومی ورثہ قرار دیا گیا ہے، سیکرٹری قومی ورثہ نے بتایا کہ ادارہ وزیر اعظم کے مشیر کی زیرنگرانی چل رہا ہے، جس میں ایک سیکرٹری اور دو جوائنٹ سیکرٹری، ادارے کا کام کررہے اس کا مقصد قومی ورثہ کو محفوظ دیاجارہا ہے ادارے کا مقصد قومی ورثہ کو ائندہ انے والے نسلوں کے لئے محفوظ کرنا ہے اس سلسلے میں بیرون ممالک میں موجود سفارت خانوں میں پاکستان کے کلچرل کو فروغ دینے کے ضرورت ہے تاکہ ملک میں سیاحت کو فروغ حاصل ہو، ادارے کے ذیلی ادارے بک فائونڈیشن کے ملک بھر میں گیارہ دفاتر ہیں ، وزارت کے امور کو احسن طریقے سے چلانے کے لئے گیارہ کروڑ روپے بجٹ ہے جبکہ وزارت کے ذیلی گیارہ اداروں میں تقسیم کیا گیا ہے، سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ موہنجوداڑ کو ایک منصوبے کے تحت کیا جارہاہے جہاں قبضہ مافیا نے قبضہ کیا ہوا ہے، جب بھی اس بارے میں بات کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ صوبائی مسلہ ہے ورثہ قومی ہوتا ہے علاقائی یا صوبائی نہیں ، سنیٹر مشاق نے کہاکہ اٹھارہویں ترامیم کے بعد ہم حساس ہوگے ہیں اور ثقافت ہماری ترجحات میں شامل نہیں کیا جارہا ہے سوات،، مکلی ہمارے قومی ورثہ ہیں ، ترجحیات نہ ہونے کی وجہ سے ہم ا ن علاقوں میں اہمیت نہیں دے رہئے ہیں صوبہ کے پی کے میں بدھا کے اثار قدیمہ کے ذریعے جاپان ، تھائی لینڈ،، سری لنکا سے سیاحوں کو پاکستان لاسکتے ہیں یہ تاریخی مقامات ان مذاہب کے منانے والوں کے لئے اہمیت کے حامل ہیں ، سنییڑ انوار الحق نے کہاکہ اسلام آباد، لاہور ، کراچی کی ترقی کو پاکستان کی ترقی نہیں کہا جاسکتا ہے، کیا اسلام آباد اور کراچی پاکستان ہیں پاکستان کے دیگر شہر علاقے بھی پاکستان کا حصہ ہیںہمیں اس پر بھی توجہ دینا ہو گی سیکرٹری قومی ورثہ نے بتایا کہ اٹھارہویں ترامیم کے بعد اختیارات صوبوںکے پاس منتقل ہوگے لیکن میوزیم، لابیری وفاق کے پاس ہیں ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں انوار الحق کاکٹر، روبینہ خالد، صابر شاہ، مولا بخش چانڈیو، مشتاق احمد، سیکرٹری تاریخ ورثہ کے انجنیر عامر حسین ، مقتدرہ قومی زبان، افتخار عارف، ایم ڈی نیشنل بک فاونیشن ڈاکٹرانعام الحق جاوید بھی موجود تھے۔