دارالحکومت کے حساس ترین علاقے شوکت لائن میں متنازعہ جگہ پر چرچ کی تعمیر سے مسلمان آبادی میں شدید اشتعال

صورتحال کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو بڑے پیمانے پر فساد اور انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے

منگل جون 16:01

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) دارالحکومت کے حساس ترین علاقے شوکت لائن میں متنازعہ جگہ پر چرچ کی تعمیر سے مسلمان آبادی میں شدید اشتعال ،صورتحال کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو بڑے پیمانے پر فساد اور انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ مال کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے مسلمان آبادی کے بیچوں بیچ اور پاک آرمی کی تنصیبات سے منسلک چرچ کی تعمیر پر کئی سوال اٹھنے لگے۔

گوجرہ نالا کے بالکل اوپر مسجد سے چند فٹ کے فاصلے پر چرچ کی تعمیر پر دینی جماعتوں کا شدید احتجاج۔۔ ایک ایسی بستی میں کہ جہاں ایک بھی عیسائی رہائش پذیر نہیں آخر حکومت اور انتظامیہ کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھنے لگے۔ بورڈ آف ریوینیو کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں علاقہ کھم درنگ درج کردہ ہے جبکہ محکمہ مال اور انتظامیہ کے کاریگروں نے اُس مقام سے کئی کلومیٹر دور مسلمانوں کی بستی میں چرچ کی تعمیر کیلئے متنازعہ جگہ مختص کر کے بڑے فتنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔

(جاری ہے)

زرائع کے مطابق آرمی گرائونڈ شوکت لائن سے ملحقہ مسجد سے بمشکل دس فٹ کے فاصلے پر چرچ کی تعمیر کے فیصلے نے جہاں مسلمان آبادی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے وہیں پاک آرمی کی تنصیبات کے بیچوں بیچ عیسائی عبادت گاہ تعمیر کر کے سیکیورٹی رسک پیدا کرنے والوں کو کھلی اجازت دینے سے متعلق کئی شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ گوجرہ نالہ کے اوپر اور مسلمان آبادی کے درمیان اس چرچ کی تعمیر کیلئے کچھ کاریگر متحرک ہیں جن کا مقصد مسلمان آبادی میں اشتعال پھیلانا اور بڑے پیمانے پر فتنہ و فساد پیدا کرنا ہے جس کے آنیوالے وقت میں انتہائی خوفناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

مقامی آبادی نے اس حوالے سے جمع ہو کر ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا اور انتظامیہ حکومت اور پاک آرمی کے ذمہ داران کے نام ایک مکتوب تحریر کیا ہے جس میں اس حساس معاملے کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔ اس علاقے میں تین کے قریب چرچ پہلے سے موجود ہیں اس کے باوجود متنازعہ جگہ پر اس عیسائی عبادت گاہ کی تعمیر سے بڑے پیمانے پر فتنہ فساد پھیلے گا اور اس کے منفی اثرات کے باعث ریاست کی بھی بدنامی ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال پر فی الفور قابو پائے اور چرچ تعمیر کو روکے۔

متعلقہ عنوان :