دنیا کی بڑی جمہوریت کا دعویدار ملک بھارت اقلیتوں کا وجود برداشت نہیں کر پا رہا ہے ، سید علی گیلانی

ظلم و بربریت اور سفاکیت کا یہ ننگا ناچ کسی بھی مہذب و جمہوری سماج کے لئے نیک شگون نہیں ہو سکتا ، بیان

منگل جون 16:14

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس ’’گ ‘‘ گروپ کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے کہاہے کہ 34برس قبل سکھ برادری کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر بھارت کی طرف سے بمباری کے نتیجے میں ہوئی تباہی کے زخم ابھی بھی تازہ ہیں۔سیدعلی گیلانی نے سرینگر میں جاری بیان میں گولڈن ٹیمپل پرحملے آپریشن بلیو سٹارکو 34برس مکمل ہونے کے موقع پر سکھ برادری سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجوداس افسوسناک واقعے کا دکھ اور کرب تمام کشمیری اسی طرح محسوس کرتے ہیں جس طرح ہمارے سکھ بھائی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت ملک میں اقلیتوں کا وجود برداشت نہیں کرپا رہا ہے اور انکے خلاف آج بھی بدترین مظالم کا سلسلہ جاری ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ تمام بھارتی حکومتوں چاہے انہوںنے سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا یا ہندوتوا کے پرچارک زعفرانی برگیڈ، ہر ایک نے مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اور عیسائیوںکے خلاف بدترین انتقامی کارروائیاں کی ہیں۔

سیدعلی گیلانی نے بھارتی حکمرانوں کو خبردار کیا کہ ظلم وبربریت اور سفاکیت کا یہ ننگا ناچ کسی بھی مہذب اور جمہوری سماج کیلئے نیگ شگون نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا ایسے دردناک اور وحشت ناک واقعات حق وانصاف کی جنگ لڑنے والوں کا عزم و حوصلہ بڑھاتے ہیں ۔حریت چیئرمین نے کہاکہ کشمیری عوام اس دکھ اور غم میں اپنے سکھ بھائیوں کے ساتھ برابر شریک ہیںکیونکہ ہم خود بھی بھارتی استعمار، ظلم وجبر اور بے پناہ زیادتیوں کے شکار ہیں۔

انہوںنے واضح کیاکہ ظلم و بربریت کے ذریعے کسی قوم کو ہمیشہ کیلئے زیر نہیں کیا جاسکتا اورجابر اور غاصب قوتوں کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ ایک اہم اجلاس غلام نبی سمجھی کی صدارت میں سرینگر میں منعقد ہو اجس میں حریت کانفرنس کے انتظامی امور کے علاوہ ریاست کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر بھارت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں اپنی قابض فورسز اور کٹھ پتلی انتظامیہ کے ہاتھوں قتل وغارت گری، لوٹ مار اور دیگر مظالم کے نتیجے میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے نام نہاد جنگ بندی اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کیلئے مذاکرات کی پیشکش پر افسوس ظاہر کیاگیا جبکہ زمینی صورتحال آئے روز بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔

اجلاس میں بھارتی قابض انتظامیہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر دبائو بڑھاتی ہے تو وہ مذاکرات کی ڈفلی بجانا شرو ع کردیتا ہے ۔ اجلاس میںحریت رہنمائوں فیروز احمد خان، حکیم عبدالرشید، محمد سلیم زرگر، محمد یوسف نقاش، مولوی بشیر عرفانی، محمد یٰسین عطائی، ایڈووکیٹ محمد شفیع ریشی، غلام محمد ناگو، سید محمد شفیع، زمرودہ حبیب، گلشن عباس، محمد اقبال شاہین، یاسمین راجہ، پیر عبدالرشید، امتیاز احمد شاہ اور سید یعصوف قمی نے شرکت کی۔۔