پاکستان میں 77 فی صد نوجوان روزگار کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں، اقوام متحدہ

اگر حالات اسی تسلسل سے چلتے رہے تو ملک بھر کے بچوں کے اسکول میں داخلے میں 60 سال لگ جائیں گے، رپورٹ

منگل جون 16:31

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 77 فی صد نوجوان روزگار کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ ملک کے 36 فیصد نوجوان اپنے مستقبل سے ناامید ہیں اور 16 فی صد کا خیال ہے کہ مستقبل میں کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ جب کہ 15 فی صد کا ماننا ہے کہ معاملات آگے چل کر مزید خراب ہو جائیں گے۔

نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ (این ایچ ڈی آر)کے مطابق ملک میں نوجوانوں کی تعداد تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ آبادی کا 64 فی صد 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ 29 فی صد آبادی کی عمر 15 سے 29 سال کے درمیان ہے۔این ایچ ڈی آر کے مطابق 15 سے 29 سال کی آبادی ملک کی مجموعی لیبر فورس کا 41.6 فی صد ہے۔ اس کے ساتھ 40 لاکھ نوجوان ہر سال جاب مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اس لیے پاکستان کو ہر سال دس لاکھ نئی نوکریاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 39 فی صد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں۔ دو، دو فی صد مرد اور خواتین کو روزگار کی تلاش ہے مگر حیرت انگیز طور پر57 فی صد بے روزگاروں کو نوکری کی تلاش ہی نہیں ہے۔ جب کہ 77 فیصد نوجوان روزگار کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔۔اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں اسلام آباد ملک میں سب سے آگے ہے۔

کاروبار،، تعلیم اور نوکری کے مواقع شہراقتدار میں سب سے زیادہ ہیں۔ اسلام آباد کا ایچ ڈی آئی اعشاریہ 8.75ہے۔شہر اقتدار کے بعد آزادکشمیر میں کاروبار،، تعلیم اور نوکری کے سب سے زیادہ مواقع ہیں جہاں انڈیکس 0.734 ہے۔صوبوں میں پنجاب 0.372کے ساتھ سب سے آگے جب کہ بلوچستان 0.421 کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔۔تعلیم کے میدان میں اسکولوں میں داخلے کی شرح ایک فیصد بھی نہیں بڑھ رہی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر حالات اسی تسلسل سے چلتے رہے تو ملک بھر کے بچوں کے اسکول میں داخلے میں 60 سال لگ جائیں گے۔ 2030 تک تمام بچوں کو اسکول بھیجنے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے انرولمنٹ کی شرح کو تین اعشاریہ آٹھ فیصد سالانہ بڑھانا ہوگا۔این ایچ ڈی آر کے مطابق ایک سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم کے 16 فی صد مواقع موجود ہیں۔

چھ سے دس سال کی عمر تک شرح تعلیم 40 فی صد ہے۔ جب کہ گیارہ سے بارہ سال کے درمیان صرف نو فیصد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ملک بھر میں 29 فی صد لوگوں کو تعلیم کی سہولتیں ہی میسر نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق صرف 24 فی صد نوجوانوں کو سیاست دانوں پر اعتماد ہے۔ اس کے باوجود 90 فی صد لڑکوں اور 55 فی صد لڑکیوں کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے۔ مسائل کے باوجود 66 فی صد نوجوانوں کا خیال ہے کہ وہ والدین سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔