جی ڈی اے کے وفد کی نگرا ن وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات ،

تحفظات سے آگاہ کیا نگران کابینہ میں غیر سیاسی لوگوں کی شمولیت ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکرٹری کی تقرری پر خدشات کا اظہار،سندھ کو آفت زدہ علاقہ قرار دینے کا مطالبہ فضل الرحمن نے شفاف الیکشن کی یقین دہانی کرائی ہے ،ہمیں ان کی نیت پر کوئی شک نہیں ،نگران کابینہ میں غیر سیاسی لوگ ہونے چاہئیں ،ارباب رحیم و دیگر کی گفتگو

منگل جون 16:49

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی ای)کے وفد نے سینیٹر مظفر حسین شاہ کی قیادت میں منگل کو نگران وزیراعلیٰ سندھ فضل الرحمن سے سی ایم ہاؤس میں ملاقات کی ۔وفد میں سابق وزیراعلی ارباب غلام رحیم،، سردار رحیم، عرفان اللہ مروت اور نعیم الرحمان شامل تھے۔جی ڈی اے کے وفد نے مختلف معالات پر اپنے تحفظات سے نگران وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا ۔

وفد نے نگران کابینہ میں غیر سیاسی لوگوں کی شمولیت ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکرٹری کی تقرری پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سندھ کو آفت زدہ علاقہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے میں پانی کی صورت حال بہتر ہورہی ہے ۔وفد نے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے ان کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدادمات کیے جائیں گے ۔

(جاری ہے)

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ سندھ اربا ب غلام رحیم نے کہا کہ نگران وزیر اعلی سے اپنے تحفطات کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے یقین دلایا ہے کہ الیکشن شفاف ہوں گے۔ہمیں نگران وزیر اعلی کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے ۔انہوںنے کہا کہ کابینہ میں جرائم پیشہ یا سیاسی افراد ہوئے تو قبول نہیں کریں گے ۔نگران کابینہ میں غیر سیاسی لوگ ہونے چاہئیں ۔

تمام جماعتوں کا کابینہ پر اعتماد ہونا چاہیے ۔جانبدار کابینہ بنائی گئی تو جی ڈی اے احتجاج کا حق رکھتا ہے۔وفاقی کابینہ میں بھی تمام غیر سیاسی لوگ ہیں ۔سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری پر بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔نگران وزیر اعلی کے پرنسپل سیکریٹری جانبدار ہیں ان کے خلاف شکایت کی ہے ۔عرفان اللہ مروت کے حلقے میں بنا ٹینڈر ترقیاتی کام کرائے جا رہے ہیں ۔وزیر اعلی نے انکوائری کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوںنے کہا کہ سندھ میں پانی کا شدید بحران ہے صوبے کو آفت زدہ قرار دیا جائے۔وزیر اعلی نے 13 جون تک تینوں بیراجز میں پانی کی صورتحال بہتر ہونے کا یقین دلایا ہے ۔