جرمنی کا اسرائیل کو دندان شکن جواب، جوہری معاہدے بارے ایران پر دبائو نہیں ڈالا جائے گا،چانسلر

جوہری معاہدے معاملہ پر اسرائیل کے ساتھ نہیں ، جرمنی القدس کو بھی اسرائیل کا دارالحکومت نہیں تسلیم کرتا،میرکل

منگل جون 16:54

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) جرمنی نے ایران مخالفت پر اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ایران پر دباو ڈالنے سے انکار کر دیا،جوہری معاہدے کے معاملہ پر ہم اسرائیل کے ساتھ نہیں ہیں، جرمنی القدس کو بھی اسرائیل کا دارالحکومت نہیں تسلیم کرتا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیا مین نتن یاہو ایران کے خلاف سخت گیر سیاسی پالیسیوں کے معاملے میں جرمن چانسلر انگیلا مرکل کو آمادہ نہیں کر سکے۔

جرمن چانسلر نے جرمنی کے سرکاری دوریپر موجود اسرائیلی وزیر اعظم بنیا مین نتن یاہو سے دارالحکومت برلن میں ملاقات کے بعد منعقدہ مشترکہ پریس کانفرس میں ایران کے ساتھ سال 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی حمایت کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔دو طرفہ تعلقات سمیت علاقائی معاملات پر بھی غور کرنے کا ذکر کرنے والی مرکل نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ ہم ایران کے ساتھ طے جوہری معاہدے کے بار آور اور فائدہ مند ہونے کے معاملے میں اپنے ہم منصب سے ہم خیال نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

ایران معاہدے کی بدولت شفافیت منظر ِ عام پر آئی ہے، وگرنہ ایران ایٹمی بم کی تیاری کے سلسلے میں آخری مراحل میں تھا، اس حوالے سے ہمارا مقف کچھ ایسا ہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یمن اور شام میں بالسٹک میزائل حملوں میں ملوث ایران کو خاصکر اسرائیلی سرحدوں کے قریبی علاقوں سے انخلا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائینگی۔

انگیلا مرکل نے کہا کہ ایران کے خطے میں اثرات باعث اندیشہ ہیں اور اسرائیل کے ایران کے حوالے سے پیش کردہ دلائل کا عالمی ایٹمی توانائی ادارے کی جانب سے جائزہ لیے جانے کے حق میں ہیں۔انہوں نے ایک سوال کہ جرمنی نے کیونکر القدس کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا کے جواب میں کہا ""جرمنی علاقے میں دو مملکتی حل کی حمایت کرتا ہے۔