جنوبی سوڈان میں زندگی سسکیاں لینے پر مجبور ہے، مارک لو کوک

انسان ناقابل تصور تکالیف برداشت کرنے پر مجبور ،رواں سال7 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے

منگل جون 16:54

جنیوا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) اقوام متحدہ کے نائب سیکرٹری جنرل مارک لو کوک نے کہا ہے کہ جنوبی سوڈان میں زندگی سسکیاں لے رہی ہے، انسان ناقابل تصور تکالیف برداشت کرنے پر مجبور ہے، جنوبی سوڈان میں رواں سال میں 7 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ذمہ دار نائب سیکرٹری جنرل مارک لو کوک نے کہا ہے کہ جنوبی سوڈان میں جھڑپیں جاری ہیں، اقتصادیات تباہ ہو چکی ہے اور انسان ایسی تکالیف برداشت کر رہے ہیں کہ جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے جنیوا آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب میں لوکوک نے کہا کہ انہوں نے دو ہفتے قبل جنوبی سوڈان کا دورہ کیا اور انسانی بحران کے بارے میں حکومت اور حزب اختلاف کے حکام کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

(جاری ہے)

ملک میں جھڑپوں کے 5 ویں سال میں داخل ہونے کی یاد دہانی کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معمولی انسان ایسی تکالیف برداشت کر رہے ہیں کہ جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

امن مرحلے میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ، جھڑپیں جاری ہیں اور اقتصادیات تباہ حال ہے۔لوکوک نے کہا ہے کہ جنوبی سوڈان میں رواں سال میں 7 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور علاقے میں مسائل بتدریج پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے علاقے میں جس کے ساتھ بھی ملاقات کی وہ فی الفور قیام امن کا خواہش مند ہے ۔ انسانوں کی تکلیفوں میں کمی کرنے کے لئے تشدد کا خاتمہ پہلا اور اہم ترین قدم ہے۔

متعلقہ عنوان :