رائیونڈمافیا نےکہاتھا ریحام خان عمران سےشادی کریں؟ رانا ثناءاللہ

خان صاحب کو شرم نہیں آتی کہ وہ 20،25 سال کی خاتون کومیسج بھیجتا ہے،عوام کتاب کو پڑھ کرہی فیصلہ دیں گے، ریحام خان نے حقائق بتائے ہیں تو یہ ان کا حق ہے،نعیم الحق اورفواد چوہدری بھی اس قسم کی حرکتوں میں ملوث ہیں۔سابق وزیرقانون پنجاب رانا ثناءاللہ کا ردعمل

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل جون 16:47

رائیونڈمافیا نےکہاتھا ریحام خان عمران سےشادی کریں؟ رانا ثناءاللہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) مسلم لیگ ن کے رہنماء اور سابق وزیرقانون پنجاب رانا ثناءالله خاں نے کہا ہے کہ رائیونڈ مافیا نے کہا تھا ریحام خان عمران سے شادی کریں؟ خان صاحب کو شرم نہیں آتی کہ وہ 20،25 سال کی خاتون کومیسج بھیجتا ہے،عوام کتاب کو پڑھ کرہی فیصلہ دیں گے، ریحام خان نے حقائق بتائے ہیں تو یہ ان کا حق ہے، نعیم الحق اورفواد چوہدری بھی اس قسم کی حرکتوں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں کہا کہ پی ٹی آئی نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ اب ہر شخص ریحام خان کی کتاب کا انتظار کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نعیم الحق اورفواد چوہدری بھی اس قسم کی حرکتوں میں ملوث ہیں۔ اگر ریحام خان نے کتاب میں حقائق بتائے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔

(جاری ہے)

لیکن کیا رائیونڈ مافیا نے کہا تھا ریحام خان عمران سے شادی کریں؟ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ جب بھی ان کی کوئی منفی بات سامنے لائی جاتی ہے تو اسے مخالفین کی سازش قرار دے دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خان صاحب کو شرم نہیں آتی کہ وہ بیس پچیس سال کی خاتون کو میسج بھیجتا ہے اس کتاب کو عوام پڑھ کر ہی فیصلہ دیں گے۔اس کتاب میں کیا لکھا ہے اس کوپڑھ کرہی بتایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے آج منگل کو فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو اپنی الیکشن مہم مافیا سے شروع کرنی چاہئے۔ نواز شریف کو دو باتوں ایک اسٹبلشمنٹ کے سہارے سیاست میں آنے اور پانچ سال سے کئے ہوئے جھوٹے وعدے جو عوام سے کئے ان پر معافی مانگیں۔

شہباز شریف کو اپنے کئے ہوئے وعدوں پر معافی مانگی چاہئے۔ شہباز شریف کو اب اپنا نام بدل دینا چاہئے۔ فارم تبدیلی میں پی ٹی آئی اس کمیٹی کا حصہ نہیں تھی پاکستان تحریک انصاف نے اس معاملے پر شدید احتجاج کیا۔ فارم میں جو تبدیلی ہوئی وہ صرف چوروں اور ڈاکوئوں کو بچانے کے لئے کی گئی۔ سینٹ میں تحریک انصاف کے لیڈر آف دی ہائوس انہوں نے ترمیمی بل پیش کیا اس بل کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مل کر پاس نہیں ہونے دیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کہہ چکے ہیں کہ انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس کے اس بیان پر تمام جماعتیں تعریف کرتی ہیں عدلیہ نے پاکستان کے آئین کو سرخرو کیا ہے اس پر پاکستان کی عوام ان کے شکر گزار ہیں۔ عمران کا کتا شیرو بھی میڈیا کے اوپر مشہور ہے۔ مجھے امید تھی ریحام خان اپنی کتاب پر تردید کریں گی یہ کتاب حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

بدقسمتی سے ریحام خان نے اپنی کتاب پر تردید نہیں کی۔ الیکشن سے ساٹھ دن پہلے یہ کتاب کیوں لائی جارہی ہے۔ بے نظیر 1986 میں پاکستان آئی تھیں 1987 میں ماڈل ٹائون میں سیل بنایا گیا اس سیل کے سربراہ حسین حقانی تھے۔ بے نظیر بھٹو کی جعلی تصاویر بنائی گئیں عمران خان اور ریحام خان میں طلاق کو تین سال ہوگئے اس ذہنیت کے لوگ ہیں ہمارے سیاستدان 1996 میں عمران خان کے اوپر سیتا وائٹ سکینڈل لایا گیا۔

سیاست میں اپنے حریفوں کو نیچا دیکھانے میں یہ لوگ کس حد تک گر سکتے ہیں۔ کوئی کتاب میں کوئی چیز ایڈٹ کروا سکتی ہی مشرقی کیا مغربی عورت بھی اپنے بیٹے یا بیٹی سے کتاب ایڈٹ نہیں کراسکتی۔ میں چیئرمین پیمرا کو کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنا فرض ادا کریں ۔1990 میں الیکشن سے قبل مصطفی کھر پنجاب کے بڑے لیڈر تھے ان کے ساتھ بیٹھ کر حسین حقانی مائی فیوڈل لارڈ کی پریس کانفرنس ی تھی سلمان احمد نے کہا ہے کہ ایک لاکھ پائونڈ ریحام خان کو دیئے شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف کتاب لکھوانے کے لئے ۔

ریحام خان تین سال سے کوئی کام نہیں کررہی۔ الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ اسی طرح کی کتاب الیکشن کے خلاف سازش سمجھ کر پابندی لگا دی جائے اس ساری سکیم کے پیچھے رائیونڈ نظر آرہا ہے۔ حنیف خان ین کہا تھا کہ الیکشن سے قبل ریحام خان کی کتاب آگئی پھر کیا ہوگا۔ اس کتاب کا مواد عابد شیر علی‘ رانا ثناء الله اور حنیف عباسی کے پاس کیسے آیا میں ریحام خان سے ڈیمانڈ کرتا ہوں کہ وہ چوبیس گھنٹے کے اندر اس بات کی تردید کریں وگرنہ اس کتاب کے خلاف شدید کارروائی کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن اس کتاب کا فوری نوٹس لے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ عمران خان کے چاہنے والوں کو اس کتاب سے ذرا فرق نہیں پڑتا انہیں پتا ہے اس سازش کے پیچھے کون ہے۔ اس سے پہلے یہ لوگ تحریک انصاف کے جلسوں میں خواتین کو نشانہ بنایا گیا اس طرح اب عمران خان کو بتایا جارہا ہے۔ چیف جسٹس دوست محمد خان بہت قابل احترام ہیں ہمیں ان کا نام قبول ہے عمران خان کے اوپر ایک کرپشن کا الزام نہیں۔

میں نے الیکشن کمیشن کو لیٹر لکھ کر بتایا اور توجہ دلائی کہ تین تعیناتیاں کی گئیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب‘ چیئرمین پیرا کے معاملات پر آگاہ کیا جب الیکشن کمیشن پر بات کی جائے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔ جاتے ہوئے یہ لوگ اکیسویں گریڈ کی تعیناتیاں کرگئے ہیں۔ ماروی میمن دس ارب روپے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت سے فیکٹ لسٹ چلائی جارہی ہیں تمام پارلیمانی بورڈز نے متفقہ طور پر امیدوار لئے ہیں۔ 4400 درخواستیں ہمارے پاس آئی ہیں ان کا انٹرویو عمران نہیں کرسکتے ابھی کسی کا ٹکٹ انائونس نہیں کیا گیا۔