سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاداخترنے نگران وزیر خزانہ ، ریونیو، اقتصادی امور، شماریات اور منصوبہ بندی و ترقی کا قلمدان سنبھال لیا

منگل جون 17:41

سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاداخترنے نگران وزیر خزانہ ، ریونیو، ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) سابق گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان اور معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر شمشاداخترنے نگران وزیر برائے خزانہ ، ریونیو، اقتصادی امور، شماریات اور منصوبہ بندی و ترقی کا قلمدان سنبھال لیا ہے۔ وہ 6رکنی نگران کابینہ میں شامل ہیں جس سے صدر مملکت ممنون حسین نے منگل کو یہاں حلف لیا۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کو تجارت ٹیکسٹائل اور صنعت و پیداوار کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔

وہ اقوام متحدہ میں انڈر سیکرٹری جنرل رہ چکی ہیں اور اس وقت ایشاء اور بحرالکاہل کے خطے کے لئے ایگزیکٹو سیکرٹری اکنامک و سوشل کمیشن خدمات سرانجام دے رہی تھیں ۔ قبل ازیں ڈاکٹر شمشاد اختر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر بھی رہ چکی ہیں۔ انہوںنے گورنر سٹیٹ بینک کی حیثیت سے 2 جنوری 2006 ء سے 3 سالہ مدت کے لئے خدمات سر انجام دیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے اس سے قبل 2004ء سے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ڈائریکٹر جنرل، جنوب مشرقی ایشیاء ڈیپارٹمنٹ ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ علاوہ ازیں وہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے محکمہ برائے مشرقی و وسطی ایشیاء کے لئے ڈائریکٹر گورننس، فنانس اور ٹریڈ ڈویژن بھی رہ چکی ہیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے 1990ء میں ایشیائی ترقیاتی بینک میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 1998ء میں منیجر کے عہدے پر فائز ہوئیں۔

انہوں نے سینئر اینڈ پرنسپل فنانشل سیکٹر سپیشلسٹ کے طورپر خدمات سرانجام دیں۔ وہ 1998ء سے 2001ء تک اے ڈی بی کی کوآرڈینیٹر برائے ایپک فنانس منسٹرز گروپ بھی رہیں۔ اسی طرح اے ڈی بی کی مختلف کمیٹیوں میں بھی شامل رہیں۔ انہوں نے انٹرنیشنل سیٹلمنٹس اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن برائے سکیورٹیز کمیشنز میں اے ڈی بی کی نمائندگی بھی کی۔ اے ڈی بی میں شمولیت سے قبل ڈاکٹر شمشاد اختر نے عالمی بینک کے پاکستان میں مشن میں 10سال کے لئے اکانومسٹ کی حیثیت سے کام کیا۔

ڈاکٹر شمشاد اختر حیدر آباد میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد سے حاصل کی۔ انہوںنے قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی اکنامکس، یونیورسٹی آف سسکس سے ایم اے ڈویلپمنٹ اکنامکس ،،برطانیہ کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے پی ایچ ڈی اکنامکس کی۔ انہوں نے مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں، سیمینارز اور سمپوزیم میں اکنامکس ومالیات کے حوالے سے متعدد مقالے پیش کئے۔ ان کی تحقیق کا محور زرعی و مالیاتی پالیسی ، بینک و کیپیٹل مارکیٹ، انٹرنیشنل فنانس آرکیٹیکچر، ریگولیشن اینڈ سپر ویژن اور صنعتی و کاروباری ری سٹرکچرنگ رہا۔