ا رمضان المبارک میں قربِ خدا وندی کے حصول کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں ، مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

معتکفین کی فضیلت یہ ہے کہ عرش کا خدا اپنے عظیم الشان نبی کو اعتکاف کرنے والوں کی خاطر تاکیدی حکم فرماتا ہے،چیئرمین مجلس علماء کراچی

منگل جون 17:50

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) جامعہ اسلامیہ مخزن العلوم کراچی کے صدر اور مجلس علمائے کراچی کے چیئرمین مولانا ڈاکٹر قاسم محمود رمضان المبارک میں قربِ خدا وندی کے حصول کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں۔ایسا ہی ایک موقع آخری عشرہ میں اعتکاف ہے۔ایک مومن رمضان کے آخری عشرہ میں دنیاوی امور اور معاملات سے قطع تعلق کر کے خالصتاً خدا تعالیٰ کے ذکر واذکار میں اپنا وقت صرف کرنے کے لئے اس کے گھر یعنی مسجد میں ڈیرہ ڈال دیتا ہے۔

دن اور رات میں زیادہ سے زیادہ خدا کی عبادت،نوافل،تلاوت کلام پاک،قرآن پر تدبر،ذکر الٰہی اور دعاؤں میں اس کا وقت صرف ہوتا ہے۔دل آستانہ الٰہی پر جھکا رہتا ہے اور زبان ذکر الٰہی سے تًر رہتی ہے۔روزہ کی طرح یہ عبادت بھی ایسی ہے جس کا مذاہبِ سابقہ میں بھی ملتا ہے۔

(جاری ہے)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خانہ کعبہ کے طواف اور اس میں اعتکاف کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنے کا ارشاد فرمایا گیا تھا۔

اس سے اعتکاف کرنے والوں کی فضیلت پر بھی خوب روشنی پڑتی ہے۔ عرش کا خدا اپنے عظیم الشان نبی کو اعتکاف کرنے والوں کی خاطر تاکیدی حکم فرماتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ اسلامیہ مخزن العلوم ، جامع مسجد فاطمہ میٹروول اور دیگر ملحقہ شاخوں میں معتکفین کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اجلاس میں جامعہ کے مختلف شعبوں کے سربراہوں نے شرکت کی ۔

انہوں نے کہا کہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وفات تک یہ معمول رہا کہ آپ آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کی ازواجِ مطہرات بھی اسی سنت کی پیروی میں اعتکاف کرتی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہؐہر رمضان میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے ،انہوں نے مزید کہا کہ اعتکاف کرنے والے کی مثال احرام باندھنے والے کی سی ہے۔

وہ کلی طور پر اپنے آپ کو خدا کے حضور ڈال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خدا مجھے تیری قسم ہے کہ میں یہاں سے نہیں ہٹوں گایہاں تک کہ تو مجھ پر رحم کر دے۔یعنی جو شخص رضائے باری اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دن اعتکاف کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین ایسی خندقیں بنادے گاجن کے درمیان مشرق ومغرب کے مابین فاصلے سے بھی زیادہ فاصلہ ہوگا۔