صاف پانی منصوبہ کے افسران اضافی 44 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں لے اڑے

یہ افسران شہباز شریف کے چہیتے افسران تھے ، شبنم نجف 66 لاکھ لے اڑی ، وزیراعلیٰ نے صاف پانی کی منظور شدہ آسامیوں پر زیادہ افسران بھرتی کرکے قومی خزانہ من پسند افسران پر نچھاور کردیا ، رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

منگل جون 18:52

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) جنوبی پنجاب کی پیاسی عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے نام پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف صاف پانی منصوبہ میں تعینات من پسند افسران کو 44 کروڑ 24لاکھ 85ہزار روپے تنخواہوں کی مد میں اضافی ادا کردیئے صاف پانی منصوبہ حکومت کا تھا جس میں سرکاری افسران کو پہلے تو قواعد کے برعکس بھرتی کیا گیا پھر ان افسران کو نجی کمپنی کے قواعد کے تحت بھاری تنخواہیں دی گئی جس کو اب غیر قانونی قرار دیا گیا ہے سپریم کورٹ کے حکم پر صاف پانی منصوبہ جنوبی پنجاب کا مالی معاملات کا آڈٹ کرایا گیا جس میں واضح ہوگیا کہ اس منصوبہ میں تعینات کئے گئے افسران کو گزشتہ تین سالوں میں مجموعی طور پر چوالیس کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں ادا کئے گئے ہیں جن کواب قواعد وضوابط کے خلاف قرار دیا گیا ہے شہباز شریف کی ہدایت پر صاف پانی کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ان افسران کی تنخواہوں کی منظوری دی تھی جو قواعد کے برعکس تھی وزیراعلیٰ نے من پسند افسران کو قومی خزانہ نچھاور کرتے ہوئے پنجاب کی وزارت خزانہ سے پیشگی اجازت لینا بھی گوارا نہیں کیا جس کے باعث شہباز شریف شکنجہ میں پھنس گئے ہیں صاف پانی جنوبی منصوبہ کو ایک کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ تو کردیا گیا لیکن یہاں کے انتظامیہ نے قانون کے برعکس دو کروڑ اسی لاکھ روپے انکم ٹیکس قومی خزانہ میں جمع کرادیا جس کا ان کو استحقاق نہیں تھا وزیراعلیٰ شہباز شریف نے قواعد کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سروسز اینڈ جنرل شعبہ کے اعلیٰ افسر من شبنم نجف کو ڈیپوٹیشن پر صاف پانی کمپنی میں تعینات کردیا نوسرباز مسز شبنم نجف سرکاری افسر ہونے کے باعث کمپنی سے چار لاکھ چالیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اضافی وصول کرتی رہی اور مجموعی طور پر چھیاسٹھ لاکھ روپے صاف پانی منصوبہ سے نکال کر اپنے اکائونٹس میں منتقل کرنے کی مرتکب قرار دی گئی ہے مسز شبنم نجف نے صاف پانی کمپنی کو ستمبر دو ہزار تیرا کو جوائن کیا اور جنوری دو ہزار سترہ تک اس عہدے پر فائز رہی مسز شبنم نجف نے صاف پانی کمپنی میں پروکیورمنٹ شعبہ کی انچارج تھی لیکن زیادہ وقت شہباز شریف کے ساتھ گزارتی تھی محترمہ نے غریب عوام کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے مختص فنڈز سے اپنی جیب بھری اور قومی فنڈز ہضم کرنے والے ملزم قرار دی گئی ہے اعلیٰ حکام نے محترمہ شبنم نجف کو چھیاسٹھ لاکھ روپے واپس کرنے کی ہدایت کی گئی ہے شہباز شریف نے صاف پانی کمپنی میں استعداد سے زیادہ سٹاف کو بھرتی سفارشیوں پرکیا تھا اور اضافی طور پر ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے غیر قانونی ادا کردیئے دستاویزات میں سینئر انجینئر کی چار آسامیوں پر چھ لوگوں کو بھرتی کیا گیا ریجنل منیجر کی چار آسامیوں پر چھ افراد کو بھرتی کیا گیا ڈسٹرکٹ ریجنز کی انیس آسامیوں پر انتیس افسران کو بھرتی کیا گیا جبکہ ریجنل ایڈمن آفیسر کی چار آسامیوں پر چھ افسران کو بھرتی کیا گیا اور یہ افسر کی ماہانہ تنخواہ تین لاکھ روپے مقرر کردی اور قومی خزانہ کو دونوںہاتھوں سے لوٹا گیا ۔