امریکی پالیسیوں کے سبب عالمی برادری کی ڈالر میں دلچسپی کم ہو رہی ہے، ملک سہیل

دوست ممالک کے مابین مقامی کرنسی میں بین الاقوامی تجارت کا رجحان فروغ پا رہا ہے،پاکستان اور چین کی تجارت سے ڈالر کا کردار کم ہوجانا خوش آئند ہے،چین کو یو آن میں ادائیگی سے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے پر دبائو کم ہو جائے گا، چیئرمین ایف پی سی سی آئی

منگل جون 18:52

امریکی پالیسیوں کے سبب عالمی برادری کی ڈالر میں دلچسپی کم ہو رہی ہے، ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) ایف پی سی سی آئی کے چئیرمین کو آرڈینیشن ملک سہیل نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے مابین تجارتی جنگ اور دیگر ممالک سے اسکی کشمکش سے مختلف ممالک کے مابین ڈالر اور دیگر بین الاقوامی کرنسیوں کے بجائے مقامی کرنسی میں بین الاقوامی تجارت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس سے پاکستان سمیت بہت سے ممالک کا دارومدار امریکی ڈالر پر کم ہو رہا ہے۔

پاکستان اور چین نے بھی کرنسی سواپ ایگریمنٹ کو وسعت دیتے ہوئے اس کاحجم دس ارب یوآن سے بڑھا کر بیس ارب یو آن یا 351 ارب روپے کر دیا ہے جس سے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ پاکستان اور چین نے پانچ سال قبل کرنسی سواپ کا معاہدہ کیا تھا جوکاروباری برادری کی عدم دلچسپی کے سبب کامیاب نہیں ہوا مگر اب صورتحال بدل گئی ہے۔

(جاری ہے)

اب پاکستان امریکہ سے دور اور چین کے قریب ہو رہا ہے، چین پاکستان کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر جبکہ سی پیک ایک حقیقت بن چکا ہے۔

گزشتہ سال دو طرفہ تجارت دس ارب ڈالر رہی ہے جو امسال تیرہ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جس میں پاکستانی درامدات تقریباً گیارہ ارب ڈالر ہونگی۔انھوں نے کہا کہ چین کو درامدات کی ادائیگی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی میں کرنے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو کم ہوجائے گااور روپے کے زوال کو بریک لگ جائے گا۔ پاکستان میںسی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والی چینی کمپنیاں بھی اپنا منافع ڈالر کے بجائے اپنی ہی کرنسی میں لے جا سکیں گی۔اس معاہدے سے چین کو کم جبکہ پاکستان کو زیادہ فائدہ ہو گا۔معاہدے کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔۔