پانی کے معاملات اور کالاباغ ڈیم کا نوٹس لینے پر لاہور چیمبر کا سپریم کورٹ سے اظہار تشکر

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کالاباغ ڈیم نہ بننے اور پانی کی قلت کا نوٹس لیکر بیس کروڑ سے زائد عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے، صدر لاہور چیمبر

منگل جون 19:00

پانی کے معاملات اور کالاباغ ڈیم کا نوٹس لینے پر لاہور چیمبر کا سپریم ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پانی کے معاملات اور کالاباغ ڈیم کا نوٹس لینے کے عمل کو بھرپور طریقے سے سراہتے ہوئے پاکستانی قوم کے لیے امید کی کرن قرار دیا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہر جاوید، سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشید اور نائب صدر ذیشان خلیل نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کالاباغ ڈیم نہ بننے اور پانی کی قلت کا نوٹس لیکر بیس کروڑ سے زائد عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے، لاہور چیمبر بھی اس سلسلے میں پہلے ہی ایک مہم چلارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان شاید وہ واحد ملک ہے جہاں پانی و بجلی کی پیداوار کے اہم منصوبوں کی مخالفت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی آبی جارحیت اور بڑے آبی ذخائر کی قلت کی وجہ سے پاکستان ان ممالک کی صف میں ہے جہاں پانی کی قلت کا مسئلہ شدت اختیار کرچکا ہے، کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے قوم کے مجرم ہے کیونکہ ریسرچ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں پانی کی قلت کا مسئلہ 2025ء تک عروج پر پہنچ جائے گاجس کی وجہ سے زرعی شعبے سمیت تمام شعبہ جات کو بہت بھاری نقصان پہنچے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کے خلاف تمام تاثرات بالکل غلط ہیں اور ان کا مقصد پاکستان مخالفین کے مفادات کو تحفظ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ تمام صوبوں کے لیے یکساں فائدہ مند ہوگا،،سندھ اور ملک کے دیگر حصوں میں پانی کی قلت کی سب سے بڑی وجہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر میں تاخیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بعد سندھ کو چالیس لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ملے گاچنانچہ یہ تاثر گمراہ کن ہے کہ کالاباغ ڈیم سندھ کو نقصان پہنچائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تربیلا او رمنگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے لہذا بڑے آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کالاباغ ڈیم اور پانی کی قلت کا نوٹس لیکر بہترین قدم اٹھایا ہے، کالاباغ ڈیم بننے کے بعد نہ صرف چاروں صوبوں کے لیے سارا سال پانی دستیاب رہے گااور انتہائی سستی بجلی بھی پیدا ہوگی جس سے صرف آئل امپورٹ بل کی مد میں ہی سالانہ تین سو ارب روپے کی بچت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم سے نوشہرہ کو بھی کوئی خطرہ نہیں کیونکہ یہ پانی کی سطح سے ڈیڑھ سو فٹ بلند ہوگا، اس ڈیم سے خیبرپختونخوا میں بھی آٹھ لاکھ ایکڑ سے زائد زمین سیراب ہوکر زیر کاشت آئے گی۔ انہوں نے کالاباغ ڈیم مخالف عناصرپر زور دیا کہ وہ پاکستان کے لیے اہمیت کے حامل منصوبوں کی مخالفت کرکے دشمنوں کے عزائم کی تکمیل نہ کریں۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے سپریم کورٹ سے بھی اپیل کی کہ وہ کالاباغ ڈیم تعمیر کرواکے ملک و قوم کو پانی کی قلت کے عذاب سے چھٹکارا دلائے۔ ۔