موجودہ درپیش چیلنجز کے سبب اعلیٰ تعلیمی ادارو ں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،

اساتذہ ایسی قیادت تیارکریں جو پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکیں گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا کا غلام اسحاق انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز کے 22 ویں کانووکیشن سے خطاب 4 پی ایچ ڈی سکالرز کے علاوہ 337 بی ایس اور 53 ایم ایس سمیت 394 طلبا ء و طالبات کو ڈگریاں اور میڈلز دیے گئے

منگل جون 18:10

صوابی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے کہا ہے کہ موجودہ درپیش چیلنجز کے سبب اعلیٰ تعلیمی اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو ایسی قیادت کو تیار کریں جو اپنے منفرد خصوصیات اور اعلیٰ تعلیم کے باعث پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکیں، قدرت نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے نوازاہے ،ہمیں صرف و صرف دیانتدار ، پرعزم ، باصلاحیت اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے جو قومی تعمیر نو کے مقصد کو پروان چڑھا سکیں، ہماری نئی نسل موجودہ چیلنجوں سے نبرد آزماہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، تعلیمی نظام کو جدیددور سے ہم اہنگ اورفعال کردار کاحامل بنانے کی ضرورت ہے تاکہ قوموں کی برادری میں باعزت مقام حاصل کیاجاسکے۔

وہ غلام اسحاق انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ٹوپی میں سالانہ 22 ویں کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر 4 پی ایچ ڈی سکالرز کے علاوہ 337 بی ایس اور 53 ایم ایس سمیت 394 طلبا و طالبات کو ڈگریاں دی گئیں ،جبکہ گورنر نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو گولڈ میڈلز بھی دئیے ،کانووکیشن کی تقریب میں ریکٹر جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ جہانگیر بشیر ،پروریکٹر اکیڈمک پروفیسرڈاکٹر جمیل النبی ،پروریکٹر ایڈمن فنانس حسن بصیر شیخ ،صدر ساپریٹ انجینئر شمس الملک،سلیم سیف اللہ خان، بورڈ آف گورنر کے ممبران اور طلبا ء کے والدین نے بھی شرکت کی ، گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں درپیش مسائل کو دیکھتے ہوئے ہمیں نتیجہ خیز ریسرچ کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہمارے ملک کودرپیش مسائل کا حل ڈھونڈکر نکالا جاسکے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور ہمیں کئی مسائل کو فوراً حل کرنے کی ضرورت ہے ہمارے ماہرین اور ریسرچ کرنے والوں کو کام کرتے وقت یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ جدید تعلیم کے سفر کو جاری رکھنے سے اُنہیں مختلف فیلڈزمیں خاطرخواہ کامیابیاں ملتی ہیں لیکن جن ممالک نے تعلیم کو کوئی اہمیت نہیں دی تو وہ پیچھے رہ گئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تسلی بخش بات ہے کہ جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ نے ٹیچنگ اور ریسرچ انجینئرنگ میں کامیابی کا سفر جاری رکھا اور قوم کی بہت خدمت کی ،جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ کے بہترین ریکارڈ کے باعث اسے قومی اور بین الاقوامی سطح پر یاد کیا جاتا ہے ،اس موقع پر ساپریٹ کے صدر انجینئر شمس الملک نے سابق صدر غلام اسحاق خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج جو ہم یہ اعلیٰ ادارہ دیکھ رہے ہیں یہ سب اُن کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔

جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ کے ریکٹر ڈاکٹر جہانگیر بشر نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کے اکیڈمیز پورے تن و من سے طلبا و طالبات کو اعلیٰ تعلیم منتقل کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دُنیا بھر میں جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ سے فارغ ہونے والے طلبا و طالبات کا بڑا مانگ ہے اور نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اُن کے کو تسلیم کیا ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر جمیل النبی نے کہا کہ جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ 1993 میں قائم ہوا لیکن مختصر مدت میں دُنیا بھر میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا ہے ،موجودہ وقت میں انسٹی ٹیوٹ تقریباً 1700 طلبا و طالبات انجینئرنگ کے مختلف ڈسپلنزز اور مینجمنٹ سائنسز میں زیرتعلیم ہے ،اب تک تقریباً 4900 طلبا و طالبات نے جی آئی کے انسٹی ٹیوٹ سے اپنی تعلیم مکمل کی ، آخر میں گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے 394 طلبا و طالبات میں ڈگریاں دی اور اُنہیں گولڈ میڈلز بھی پہنائے ۔