نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان کا تعلق بنوں سے ہے،پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے

منگل جون 18:10

بنوں(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان کا تعلق ضلع بنوں سے ہے جسٹس (ر) دوست محمد خان بنوں شہر کے قریبی گائوں سید آباد کوٹکہ غونڈیان میں 20 مارچ 1953 میں بنوں کے اہم شخصیت ملک شیر بہادر خان کے گھر میں پیدا ہوئے اُنہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 بنوں سٹی سے حاصل کیا اور انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بنوں سے 1974 میں کی اور 1976 میں وکالت کی ڈگری گورنمنٹ سندھ مسلم لاء کالج کراچی حاصل کی ،نامزد نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد خان 1976 سے کافی عرصہ تک وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے ،اپنے وقت کے چند نامی گرامی وکلاء میں اپنا منفرد مقام رکھتے تھے ،وہ کم اور اعلیٰ عدالتوں کے علاوہ سپریم کورٹ میں بھی کام کیاوہ 1986-87 میں ڈسٹرکٹ بار بنوں کے صدر جبکہ 1999.2000 پشاور ہائی کورٹ ڈیرہ اسماعیل خان بینچ کے صدر رہے آج بھی ڈسٹرکٹ بار بنوں میں ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کی اُن کی وجہ سے ذہانت پر لوگ اپنے مقدمات کی پیروی کیلئے خدمات حاصل کر رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

اُنہوں نے جون 2008 میں انصاف میں تاخیرکو کم کرنے کیلئے جسٹس اور کورٹ مینجمنٹ کی انتظامیہ کے موضوع پر آر آئی پی اے انٹرنیشنل لندن برطانیہ سے کورس مکمل کیا جبکہ 2010 ء میں دانشوارانہ پراپرٹی حقوق اور بین الاقوامی تجارتی ثالثی پر جوڈیشنل تجربہ کا اشتراک کے حوالے سے واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی وہ 10 ستمبر 2002 کو اضافی جج کے طور پر مقرر کیا گیا تھا جبکہ 10 ستمبر 2003 کو پشاور ہائی کورٹ کے مستقل جج کے طور پر تعینات ہوئی17 نومبر 2011 ء کو چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لیااوردو سال اور دو مہینے یعنی 31 جنوری 2014 ء تک پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے اس دوران انہوں نے اہم فیصلے کئے جن میں ڈرون حملے ، جنگجو جرائم کے خاتمے ، سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی انتخابی مہم سے مقابلہ کرنے کے قابل ایندھن ایڈجسٹمنٹ کے الزامات کا اعلان غیر قانونی ،خواتین کو ووٹنگ سے روکنے اور لاپتہ افراد کو داخلی مراکز میں منتقل کرنے جیسے اہم فیصلے شامل ہیں اس دوران تیز رفتار انصاف کی فراہمی کیلئے اقدامات اُٹھائے اور موبائل عدالتیں قائم کئے جنہوں نے ابتدائی اور متعد جماعتوں کے دروازے پر دستخط کئے جن میں مجرمانہ مقدمات مرتب کئے تھے شہریوں کو شکایت تھی کہ عدالتی اور سول مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں جس کیلئے اختلافی تنازعہ حل (اے ڈی آر) مرکز خیبر پختونخواہ جسٹس اکیڈیمی میں قائم کیا گیا تھا جس کے ذریعے آن لائن شکایت کا نظام متعارف کرایابنوں کے عوام نے جسٹس (ر) دوست محمد خان کی نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کی حیثیت سے تقرری کو سراہا ہے ایک غیر جانبدار شخصیت ہونے کی بنیاد پر صوبے میں پاک صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں گے ۔