ایم ایم اے کی صوبائی قیادت نے سینیٹر مشتاق احمد خان کو متحدہ مجلس عمل خیبر پختونخوا کا سینئر نائب صدر مقرر کردیا

منگل جون 18:10

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) متحدہ مجلس عمل کی صوبائی قیادت نے مشاورت کے بعد جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان کو متحدہ مجلس عمل خیبر پختونخوا کا سینئر نائب صدر مقرر کردیا۔ گزشتہ روز المرکزالاسلامی میں متحدہ مجلس عمل کے صوبائی صدر مولانا گل نصیب خان کی قیادت میں وفد نے امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان سے ملاقات میں ایم ایم اے کی صوبائی کابینہ میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی جس پر سینیٹر مشتاق احمد خان کے مثبت جواب کے بعد ایم ایم اے کی صوبائی قیادت کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں سینیٹر مشتاق احمد خان کو متحدہ مجلس عمل خیبر پختونخوا کے سینئر نائب صدر کے طور پر تقرری پر اتفاق ہوا۔

اجلاس میں ایم ایم اے کے صوبائی جنرل سیکرٹری کی ذمہ داری جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر محمد اقبال خلیل کے سپرد کی گئی جبکہ عبدالواسع کو متحدہ مجلس عمل خیبر پختونخوا کا سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا گیا۔

(جاری ہے)

سینیٹر مشتاق احمد خان نے المرکزالاسلامی پشاور سے جاری کئے گئے اپنے بیان میں متحدہ مجلس عمل کے قائدین کا شکریہ ادا کیا اور فوری طور پر اپنا کام شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

مشتاق احمد خان نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل عام انتخابات میں صوبے میں حکومت بنائے گی اور صوبے کے مسائل حل کرے گی،،ایم ایم اے کی حکومت وفاقی حکومت سے اپنے حقوق کے حصول اور وسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، متحدہ مجلس عمل کو ملکی اور بین الاقوامی محاذوں پر بے شمار چیلجز درپیش ہیں جس کا مقابلہ کرنے کیلئے دینی جماعتوں کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

مغربی طاقتیں مختلف طریقوں سے امت میں پھوٹ ڈالنے اور آپس میں لڑانے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہیں۔ متحد ہوکر ہی ان سازشوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل ملک میں لاالہ الا اللہ کا نظام قائم کرنا چاہتی ہے ۔ زندگی کے آخری لمحے اور خون کے آخری قطرے تک ہم پاکستا ن میں شریعت کے نفاذ کے لئے لڑیں گے ۔ دینی جماعتوں کے اتحاد سے آ ج امریکہ کے آلہ کار پریشان ہیں ۔

اگر 1970 ء میں متحدہ مجلس عمل جیسی قوت ہوتی تو پاکستان دو لخت نہ ہوتا ۔ دینی جماعتیں اس لئے متحد ہوئی ہیں کہ پھر قوم کو کوئی سانحہ نہ دیکھنا پڑے ۔انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل ایسی خارجہ پالیسی دے گی جس سے امت کے مسائل حل ہوں اور پاکستان دنیا میں سر اٹھا کر چل سکے، کشمیر اور فلسطین کی آزادی ہماری خارجہ پالیسی کا مرکزی نقطہ ہوگا ۔ پانی کے ذخائر کی تعمیر و ترقی قومی اتفاق رائے سے پیدا کریں گے ،،متحدہ مجلس عمل تمام اقلیتوں کے آئینی حقوق کی محافظ بن کر دکھائے گی ۔ انہوںنے کہاکہ 2018 ء کا الیکشن پاکستان کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے ۔ متحدہ مجلس عمل ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی ۔