فاٹا سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ فکر کے افرادکا 104 ونگ خیبر رائفلز لنڈی کوتل کا دورہ

منگل جون 19:57

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) جی ایف سی کی خصوصی ہدایات اور سیکٹر کمانڈر سنٹرکے زیرنگرانی فاٹا سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ فکر کے لوگوں ، یوتھ کے نمائندوں اور تاجر برادری نے 104 ونگ خیبر رائفلز لنڈی کوتل کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران آفیسرز نے آنے والے وفد کو پاک فوج،، فرنٹئیر کور اورپولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے فاٹا میں جاری ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کیا۔

اس کے علاوہ امن و امان سے متعلق کیے گیے مختلف اقدامات اور کاوشوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔وفد میں شامل تمام ارکان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حکومت پاکستان،، پاک فوج،، فرنٹئیر کو ر ، پولیٹیکل انتظامیہ اور عوام کی قربانیوں اور کوششوں کو سراہا۔ اور علاقے میں جاری ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود کے اقدامات کی تعریف کی۔

(جاری ہے)

وفدنے خاص طور پر دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے سیکورٹی فورسزاور فاٹا کے غیور عوام کی قربانیوں کا ذکر کیاجس کی بدولت آج لوگ ایک پر امن زندگی بسر کر رہے ہیں اور قبائلی عوام کی مالی، معاشی اور معاشرتی زندگی بہتر سے بہتر ہو رہی ہے۔

وفد میں شامل افراد نے خاص طور پر کور کمانڈر پشاور،، آئی جی ایف سی اور سیکٹر کمانڈر سنٹر کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی د لچسپی سے حالات میںبہت بہتری آئی ہے جس کی بدولت نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو ں گے۔ آج کے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے وفد کے ارکان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ فاٹا میں قائم ہونے والا امن پاکستان کے تمام اداروں خصوصا پاک فوج اور فرنٹئیر کو ر کی کاوشوں اور قربانیوں کا ثمر ہے۔

اب اس علاقے میں ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری ہے۔ جس کے لئے فاٹا کے عوام اپنی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہیں۔ وفد میں شامل تمام ارکان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ کسی بھی ایسے گروہ ، فردیا طبقے کو یکسر مسترد کرتے ہیں جو ہماری سیکورٹی فورسزکے اداروں اور عوام کے درمیان رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔فاٹاکے غیور عوام ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیںگے۔

ایسے تمام عناصر کے خلاف قبائیلی عوام ، سیکورٹی فورسز کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہوں گے اور ان کاایجنڈا ہرگز پورا نہیں ہونے دیںگے۔ اس موقع پر ارکان نے فاٹاکے خیبر پختونحوا میں انضمام کو پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب قرار دیا۔ فاٹا کا انضمام یہاں کے غیور عوام کے خوابوں کی تکمیل ہے۔اس سے عوام کو ان تمام معاشی اور قانونی وسائل تک رسائی حاصل ہوگی جس کے وہ حقدار ہیں۔ اس انضمام سے ٖفاٹاکے عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار کے بہترین مواقع ملیںگے اور وہ جلد ازجلد قومی دھارے میںشامل ہو سکیںگے۔