سپریم کورٹ میں چک شہزاد فارم ہائوسز کے غلط استعمال سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت

یہ فارم ہاسز تو کچن گارڈن کے مقصد کے لیے دئیے گئے تھے، محلات بنا کر اصل مقصد فوت کر دیا گیا،بڑے لوگوں نے ملی بھگت سے فارم ہائوسز الاٹ کرائے ان فارم ہاوسز میں سبزیاں اگائی جانی تھیں، سبزیوں کے بجائے یہاں پر محل بن گئے،چیف جسٹس کے ریمارکس

منگل جون 20:35

سپریم کورٹ میں چک شہزاد فارم ہائوسز کے غلط استعمال سے متعلق ازخود نوٹس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) سپریم کورٹ میں چک شہزاد فارم ہائوسز کے غلط استعمال سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ فارم ہاسز تو کچن گارڈن کے مقصد کے لیے دئیے گئے تھے، محلات بنا کر اصل مقصد فوت کر دیا گیا،بڑے لوگوں نے ملی بھگت سے فارم ہائوسز الاٹ کرائے ان فارم ہاوسز میں سبزیاں اگائی جانی تھیں، سبزیوں کے بجائے یہاں پر محل بن گئے منگل کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد کے علاقہ چک شہزادمیں فارم ہائوسز کے غلط استعمال کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی توچیف جسٹس نے کہاکہ چک شہزاد میںفارم ہائوسز کی جگہ بڑے بڑے بنگلے بن گئے،کیوں نہ یہ بڑے بڑے بنگلے یا محل گرا دیںبڑے لوگوں نے ملی بھگت سے فارم ہائوسز الاٹ کرائے ان فارم ہاوسز میں سبزیاں اگائی جانی تھیں، سبزیوں کے بجائے یہاں پر محل بن گئے،اس دوران ایک صحافی خوشنود علی خان نے کہاکہ جناب چیف جسٹس ایسا نہیں ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی خلاف حکم نہیں جاری کریں گے لیکن آپ کون ہیں، خوشنود علی خان نے کہاکہ میں صحافی ہوں میرا نام خوشنود علی خان ہے،،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ صحافی ہیں تو کیا آپ کو ترجیح دیں آپ اپنی نشست پر تشریف رکھیں،،چیف جسٹس نے خوشنود علی خان کو روسٹرم سے ہٹنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ خوشنود علی خان آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ عدالت کا ڈیکورم کیا ہوتاہے آپ کومیڈیا کا حوالہ دیکر ریلیف نہیں ملے گا، اس دوران ایک فارم ہائوس کے مالک کا کہنا تھا کہ ساری زندگی کی جمع پونجی سے گھر بنایا، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کو فارم ہائوس میں ساڑھے بارہ ہزار سکوئر فٹ پر تعمیرات کی اجازت کیسے مل گئی فارم ہائوس کے لیے زمین دینے کا مقصد کیا تھا، یہ فارم ہاسز تو کچن گارڈن کے مقصد کے لیے دئیے گئے تھے، محلات بنا کر اصل مقصد فوت کر دیا گیا، چیف جسٹس نے کہاکہ قانون کے تحت 9500سکوئر فٹ پر تعمیر ہو سکتی ہے، 9500فٹ سے ایک انچ اوپر تعمیر نہیں ہو گی،حد سے زیادہ تعمیر کے لیے عدالت سے اجازت لینا ہوگی جن فارم ہاسز کی تعمیر حد سے زیادہ ہوگی گرا دیں گے،جن لوگوں نے بیسمنٹ بنا رکھی ان ہر جرمانہ عائد کیا جائیعدالت چاہیے تو ساری تعمیرات گرانے کا حکم دے سکتی ہے، اس پر فارم ہائوس کے مالک نے کہاکہ بیسمنٹ کی اجازت سی ڈی اے نے دے رکھی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ بیسمنٹ بنانے پر ایک لاکھ روپے فی مربع فٹ جرمانہ ہونا چاہیے، وکیل نے درخواست کی کہ عدالت 500روہے سکوئیر فٹ جرمانہ کردے تاہم چیف جسٹس نے کہاکہ یہ توجرمانہ نہ دینے والی بات ہے، کم از کم پچیس ہزار سکوئیر فٹ جرمانہ ہونا چاہیے، اس پر شہری کاکہنا تھا کہ میں سابق فوجی ہوں ہمارے پاس کوئی جمع پونجی نہیں،،چیف جسٹس نے کہاکہ میرے لیے آپ ایک شہری ہیں، حد سے زیادہ تعمیرات گرا دی جائیں گی، بیسمنٹ پر بیس ہزار روپے فی مربع فٹ جرمانہ ہوگا۔

(جاری ہے)

عدالت نے قراردیا کہ جن فارن ہائوسز پر 9500 مربع فٹ سے زیادہ تعمیرات ہیں وہ چھ ماہ میں گرا دیں پورے چک شہزاد فارم ہائوسزمیں 9500سکوئیر فٹ سے زیادہ تعمیرات نہ ہو اوربیسمنٹ بنانے پر سی ڈی اے چھ ماہ کے اندر فارم ہائوسز کو جرمانہ عائد کرے، عدالت نے ہدایت کی کہ حد سے زیادہ تعمیرات کو مالکان چھ ماہ میں خود مسمار کریں، چھ ماہ کے بعد سی ڈی اے مالکان کے خرچے پر تعمیرات کرائے گا،،چیف جسٹس نے خبردار کیاکہ عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر سی ڈی اے اورذمہ دار مالکان کیخلاف کارروائی ہوگی،ان کا کہنا تھا کہ کرپشن فری کام کرنے کی ڈگر پر چل رہے ہیں، اس وقت ملک میں قانون کی حکمرانی کا کام چل رہا ہے۔