سپریم کورٹ، ڈبلیو ٹی او میں نو تعینات سفیر توقیر شاہ کی تقرری کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت

. جن لوگوں کو تکبر اور ظلم کرتے دیکھا وہ آج کٹہرے میں ہیں، عوام کی اتنی تشفی کافی ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم ہو رہی ہے ،چیف جسٹس کے ریمارکس

منگل جون 20:35

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ( ڈبلیو ٹی او )میں نو تعینات سفیر توقیر شاہ کی تقرری کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہ جن لوگو ں کو تکبر اور ظلم کرتے دیکھا وہ آج کٹہرے میں ہیں، عوام کی اتنی تشفی کافی ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم ہو رہی ہے ۔ منگل کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق سیکریٹری وزیر اعلی توقیر شاہ کی ڈبلیو ٹی اومیں تقرری کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی تو توقیرشاہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ ملک سے اقربا پروری پسند نا پسند ختم ہونی چاہیے تقرریاں میرٹ پر ہونی چاہیں لیکن ڈبلیو ٹی او میں تعیناتی کر کے توقیر شاہ کو نواز گیا،توقیر شاہ نے بتایا کہ ان کی سب سے پہلے تقرری احمد پور شرقیہ میں بطور کمشنر ہوئی،کھبی قانون کی حکمرانی سے روگردانی نہیں کی۔

(جاری ہے)

انتیس سال سے سول سروس میں ہوں، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ وزیر اعلی کے ساتھ کب تعینات رہی توقیر شاہ نے بتایا کہ انیس سو ستانوے میں وزیر اعلی کے ساتھ آٹھ ماہ بطور ڈپٹی سیکرٹری وابستہ رہا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ توقیر شاہ کی ڈبلیو ٹی او میں تعیناتی کی اہلیت نہیں تھی، توقیر شاہ وزیر اعلی کا منظور نظر ہے، ماڈل ٹائون کیس سے بچانے کے لیے انہیں باہر بھیج دیا گیا،،چیف جسٹس نے کہاکہ توقیر شاہ کی ڈبلیو ٹی او میں سفیر تعیناتی معطل کررہے ہیںانکی تعیناتی معطل ہونے سے پاکستان کی بدنامی نہیں ہوگی، معطلی سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا تاثر ملے گا، توقیر شاہ نے بتایا کہ دوہزار آٹھ سے بارہ تک وزیر اعلی پنجاب کا سیکرٹری رہا، چیف جسٹس نے کہاکہ توقیر شاہ کی بطور سفیر تعیناتی معطل کر دیتے ہیں، ہمیں پاکستان کے مفاد کا تحفظ کرنا ہے،کیا یہ لوگ پاکستان کے مفاد کا تحفظ کریں گے، اس دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک کے لیے توقیر شاہ کو کام کرنے دیا جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ کیا صرف توقیر شاہ اور علی جہانگیر صدیقی ہی پاکستان کی نمائندگی کے لیے رہ گئے ہیں، ساری سروس انکی وزیر اعلی کے ساتھ رہی،،پنجاب میں صرف توقیر شاہ کی چلتی تھی۔کیا ملک میں کوئی اور بندہ نہیں تھا، چیف جسٹس نے کہاکہ ساری زندگی وزیر اعلی کو خوش کر کے اس جگہ پر پہنچے۔اٹارنی جنرل نے پھر درخواست کی کہ توقیر شاہ کی تعیناتی کو معطل نہ کریں چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ عدالت کے حکم کے دوران مداخلت نہ کریں توقیر شاہ نے کہاکہ بطور سفیر تین کمیٹیوں کی ڈبلیو ٹی او میں صدارت کرتا ہوں میں رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دوں گا،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ عہدہ چھوڑنے کا لکھ کر دے دیں توقیر شاہ نے کہا کہ مستفی ہونے کے طریقہ کار کے مطابق استعفی دے دوں گا،میں ڈبلیو ٹی او میں جا کر عہدہ چھوڑ کر واپس آئوں گا، چیف جسٹس نے کہاکہ آج(بدھ) تک لکھ کر دیں کہ آپ عہدہ چھوڑ دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ جن لوگو کو تکبر اور ظلم کرتے دیکھا وہ آج کٹہرے میں ہیں، عوام کی اتنی تشفی کافی ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم ہو رہی ہے، توقیر شاہ نے کہاکہ میں اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں، عالمی کانفرنس میں شرکت کی اجازت دے دیں کا نفرنس میں شرکت کر کے واپس آئوں گا،،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کھبی وزیر اعلی اور کھبی پاکستان کی خدمت کرتے ہیں،ہمیں عہدہ چھوڑنے کا لکھ کر دیں،ہمیں آج ہی عہدہ چھوڑنے کا لکھ کر دیں چار پانچ بجے دوبارہ بیٹھ جائیں گے۔