یوم علیؓ کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں برآمد ہونے والے عزاداری کے جلوسوں کو موثر سیکورٹی فراہم کی جائے، مجلس وحدت مسلمین

منگل جون 20:58

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جون2018ء) یوم علی رضی اللہ عنہ کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں برآمد ہونے والے عزاداری کے جلوسوں کو موثر سیکورٹی فراہم کی جائے۔ملک میں سیکیورٹی تھریٹس بہت زیادہ ہے، داعش کی کارروائیاں اب پاکستان میں بھی ہورہی ہے ۔ملک دشمن عناصر شرپسندی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ان خیالات کا اظہار ایم ڈبلیو ایم کے مرکشی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے وحدت ہاوس کراچی میں رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا۔

کانفرنس میں علامہ صادق جعفری،علامہ مبشر حسن ،علی حسین نقوی،تقی ظفر ،ناصر حسینی سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی تقریبات، عبادت گاہیں اور سیکورٹی ادارے ان کا ہدف رہے ہیں۔ایسے موقعہ پر سیکورٹی اداروں کو مزید چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

حساس مقامات پر جلوس کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹ نصب کیئے جائیں اور سیکورٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔

ہر شہر میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ وحدت اسکاوٹس اور وحدت یوتھ بھی معاون سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیں گے۔ اس سلسلے میں اسکاوٹس کو اپنے اپنے علاقوں میں ذمہ داریاں تفویض کر دی گئیں ہیں۔ جلوسوں کی حفاظت پر مامور انتظامیہ کے افسران و اہلکاروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا تاہم اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جلوس میں شریک ہونے والے سوگواران کی راہ میں سیکورٹی کے نام پر رکاوٹ یا مشکلات پیدا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

رہنماوں کا کہنا تھا کہ صیہونی قبضہ سے قبلہ اول کی آزادی کی حمایت میں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف8جون2018بمطابق 23 رمضان المبارک کو مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ملک بھر میں یوم القدس منایا جائے گا۔ اس موقعہ پر ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام ملک گیر یوم احتجاج منایا جائے گا اور اس حوالے سے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔

یوم القدس کے اجتماعات میں شیعہ سنی مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔جمعةالواداع کے خطبات میں یہود و نصاری کے مظالم اور امت مسلمہ کو درپیش خطرات کا خصوصی طور پر ذکر کیاجائے گا۔ ملک کے مختلف شہروں میں القدس کانفرنسز بھی منعقد کی جائیں گی جن میں ملک کی نامور سیاسی و مذہبی شخصیات اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔

مسلمانوں کے ازلی دشمن اور قبلہ اول پر قابض اسرائیل کی نابودی کے لیے امت مسلمہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ مسلمانوں کے سارے اتحاد عالم اسلام کی پسپائی کے لیے وجود میں آتے ہیں۔قبلہ اول کی آزادی مسلمانوں پر قرض ہے۔عالم اسلام کو تفرقوں میں الجھا کر اسرائیل اور اسلام دشمن طاقتوں کی معاونت کی جا رہی ہے۔مسلکی نظریات کو ابھارہ اور حقیقی اسلام کو دبایا جا رہا ہے جو عالم اسلام کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہے۔

قبلہ اول پر اسرائیلی یلغار کے پیچھے امریکہ،،،برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک کی سازشیں کارفرما ہیں۔استعماری قوتیں ہماری وحدت کو پارہ پارہ کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں۔بیت المقدس کی آزادی امت مسلمہ کی مشترکہ جدوجہد سے مشروط ہے۔۔اسرائیل نے فلسطین کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے لیکن مسلمان ممالک اسرائیل کے اس جارحانہ طرز عمل کے خلاف کسی غیرمعمولی ردعمل کا اظہار کرنے کی بجائے اس کے ساتھ کاروباری رابطے استوار کرنے میں مصروف ہیں جو نا صرف اخلاقی تنزلی ہے بلکہ حکم ربانی سے بھی صریحاًً انحراف ہے۔

امام خمینی کے حکم کے مطابق یوم القدس ہر سال دنیا بھر کے مظلوموں کی حمایت کے دن کے طور پر عالمی سطح پر منایا جاتا ہی..قائد اعظم نے فلسطنیوں کی حمایت کر کے پاکستان کا موقف واضح کر دیا تھا۔مظلوم فلسطینوں کی حمایت میں گھروں سے نکلنا ہر شخص کا شرعی فریضہ ہے۔